سابق وزیر محمد علی شبیر کی پیش قیاسی، عدلیہ اور گورنر کو نظرانداز کرنے کا الزام
حیدرآباد۔21 ۔ اکٹوبر(سیاست نیوز) سابق وزیر محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ ریاست دستوری بحران کی طرف بڑھ رہی ہے اور کے سی آر حکومت کا زوال قریب ہے۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پرگتی بھون گھیراؤ احتجاجی پروگرام سے قبل قائدین کی گرفتاریوں اور مکانات پر محروس رکھنے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاریوں کے ذریعہ احتجاج کو کچلا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پولیس کے ذریعہ آر ٹی سی ملازمین اور اپوزیشن کے احتجاج کو دبانا چاہتے ہیں جو غیر جمہوری اور غیر دستوری اقدام ہے۔ ہڑتال کو 17 دن مکمل ہوگئے اور آج تک حکومت نے یکسوئی کیلئے کوئی پہل نہیں کی۔ لہذا دستوری بحران کا اندیشہ ہے کہ کے سی آر نے مقننہ عاملہ اور عدلیہ کی اہمیت گھٹاتے ہوئے ڈکٹیٹرشپ مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔ عوام کو حکومت کے غلط فیصلوں کے خلاف احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن چیف منسٹر اس حق سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ریاست بھر میں ہزاروں کانگریس کارکن کی گرفتاریوں کی مذمت کی اور کہا کہ کانگریس پارٹی آر ٹی سی ملازمین کے مطالبات کو قبول کرنے کی مانگ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل رات سے ہی اہم قائدین کے مکانات کو پولیس نے گھیر لیا تھا اور صبح سے کسی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس قائدین دراصل پرگتی بھون کے پاس جمع ہوکر چیف منسٹر کو یادداشت پیش کرنا چاہتے تھے تاکہ آر ٹی سی ہڑتال کا حل تلاش کیا جائے لیکن چیف منسٹر عوامی مسائل پر یادداشت قبول کرنے تیار نہیں ہیں۔ چیف منسٹر نے کانگریس قائدین کو مکانات سے نکلنے کی اجازت نہیں دی اور ریاست کے مختلف علاقوں میں ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیگم پیٹ ریلوے ا سٹیشن اور فلائی اوور کو بند کردیا گیا تھا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ پرگتی بھون کی کچھ اس طرح حصاربندی کی گئی جیسے یہ کسی بادشاہ کا قلعہ ہو۔ کے سی آر نے عوامی احتجاج کو پولیس کے ذریعہ جبراً ناکام بنانے کی کوشش کی ہے ۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے فوج کے ذریعہ بغاوت کو ناکام کیا جارہا ہے ۔ کے سی آر پر جمہوریت کے قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ میں سنگین دستوری بحران پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ حکومت نے ہائی کورٹ کے احکامات کو ماننے سے انکار کردیا۔ آر ٹی سی کیلئے مستقل مینجنگ ڈائرکٹر کا تقرر نہیں کیا گیا اور نہ ملازمین کو ستمبر کی تنخواہ ادا کی گئی۔ گورنر ٹی سوندرا راجن نے آر ٹی سی بحران کو حل کرنے کی مساعی کی لیکن حکومت نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ کے سی آر یہ واضح پیام دے چکے ہیں کہ وہ جمہوریت نہیں بلکہ ڈکٹیٹرشپ کی طرح حکمرانی کریں گے ۔ آر ٹی سی کے 48,000 سے زائد ملازمین کو از خود برطرف کرنے کا اعلان مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرون تین یوم اتم کمار ریڈی کی صدارت میں پردیش کانگریس کی عاملہ کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں احتجاجی لائحہ عمل کو قطعیت دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کو انصاف ملنے تک کانگریس خاموش نہیں رہے گی۔