تلنگانہ میں دو لاکھ ہیلت ورکرس کو کورونا ویکسین کا منصوبہ

   


دوسرے مرحلہ میں ضعیف العمر افراد کو ترجیح، جنوری سے ٹیکہ اندازی کا امکان
حیدرآباد: تلنگانہ میں کورونا ویکسین کی ٹیکہ اندازی کے سلسلہ میں محکمہ صحت نے سرکاری اور خانگی سطح پر کام کرنے والے 2.8 لاکھ ہیلت کیر ورکرس کی نشاندہی کی ہے۔ ملک میں کورونا ویکسین کے منظر عام پر آنے کے بعد تلنگانہ میں سب سے پہلے ہیلت کیر ورکرس کو کورونا ویکسین کی ٹیکہ اندازی کی جائے گی ۔ بتایا جاتاہے کہ پہلے مرحلہ میں 4 مختلف زمروں کے تحت عوام کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے پہلے دو زمروں کی نشاندہی کی جن میں ہیلت کیر اور فرنٹ لائین ورکرس شامل ہیں جنہوں نے کورونا وباء کے دوران صورتحال سے نمٹنے میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ تیسرے اور چوتھے گروپ میں 50 سال سے زائد اور 50 سال سے کم عمر افراد کو شامل کیا گیا ہے اور انہیں ویکسین کی دستیابی کی صورت میں ٹیکہ اندازی کی جائے گی ۔ اطلاعات کے مطابق ایسے افراد کے نام رجسٹر کئے جائیں گے اور ان میں ترجیحی بنیادوں پر ویکسین دینے کا فیصلہ ہوگا۔ ہیلت ڈپارٹمنٹ نے 2.8 لاکھ ہیلت کیر ورکرس کی فہرست پہلے ہی تیار کرلی ہے۔ دیگر سرکاری محکمہ جات بشمول بلدی نظم و نسق اور پولیس کی جانب سے اپنے ملازمین کے نام علحدہ طور پر رجسٹر کئے جارہے ہیں ۔ 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو دو ذیلی گروپس میں تقسیم کئے گئے ہے۔ پہلا گروپ 60 سال اور اس سے زیادہ کا ہوگا ۔ ترجیحی بنیاد پر ویکسین دی جائے گی۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت ڈاکٹر جی سرینواس راؤ نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ویکسین کی سربراہی کے بعد ہیلت کیر ورکرس اور فرنٹ لائین ورکرس کو اولین ترجیح حاصل رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو ترجیحی گروپ میں شامل کرنے کی اہم وجہ اس عمر کے افراد کی اموات میں اضافہ ہے۔ کورونا اموات کا 78 فیصد اسی زمرہ سے تعلق رکھتا ہے۔ 50 سال سے کم عمر کے افراد کو اپنی صحت کے بارے میں میڈیکل سرٹیفکٹ پیش کرنا ہوگا اور ان میں مختلف عوارض کی موجودگی کا جائزہ لے کر ویکسین دی جائے گی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ کورونا ویکسین کی ٹیکہ اندازی رضاکارانہ رہے گی اور ہر شخص اپنے طور پر یہ طئے کرسکتا ہے کہ اسے ویکسین کب لینا ہے۔ تلنگانہ میں توقع ہے کہ جنوری کے دوسرے ہفتہ میں کورونا ویکسین ٹیکہ اندازی کیلئے تیار رہے گی۔ ابتداء میں ترجیحی گروپس کو ویکسین دی جائے گی اور عام آدمی کی ٹیکہ اندازی جولائی یا اگست میں کی جاسکتی ہے۔ پہلے مرحلہ کی ٹیکہ اندازی کے اخراجات کے سلسلہ میں مرکز اور ریاست کی جانب سے اس بات کی وضاحت نہیں ہوئی ہے کہ اخراجات کون برداشت کرے گا۔