غیر زرعی اراضیات کے رجسٹریشن سے 5 ماہ میں حکومت کو 2823 کروڑ روپئے کی آمدنی
حیدرآباد۔ /2 ستمبر، ( سیاست نیوز) ریاست میں رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیاں دوبارہ عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ تمام اضلاع میں غیر زرعی اراضیات کی فروخت میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے جس سے محکمہ رجسٹریشن کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ سال کی بہ نسبت جاریہ سال کے صرف 5 ماہ میں دو گنا آمدنی کا اصافہ ہوا ہے۔ محکمہ رجسٹریشن کے اپریل 2021 سے 31 اگسٹ تک کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے تاہم گذشتہ سال کورونا کا بہت زیادہ اثر دیکھا گیا تھا جس کی وجہ سے سرکاری خزانہ کی آمدنی گھٹ گئی تھی۔ اراضیات کی قدر میں نظرثانی کرنے کے بعد کم دستاویزات کا رجسٹریشن ہونے کے باوجود حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے جس سے رئیل اسٹیٹ کاروبار پھر ایک مرتبہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔ گذشتہ 5 ماہ کے دوران 10 متحدہ اضلاع میں غیر زرعی اراضیات کے 4,47,865 دستاویزات کا رجسٹریشن ہوا ہے جس کے ذریعہ حکومت کو 2,823.90 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے۔ گذشتہ سال 10 متحدہ اضلاع میں اپریل تا 31 اگسٹ 2020 کے درمیان 4,61,376 دستاویزات کے رجسٹریشن ہوئے تھے جس سے حکومت کو 1,390.15 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی۔ گذشتہ سال ماہ اگسٹ میں 455 کروڑ کی آمدنی جاریہ سال ماہ اگسٹ میں 922 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے۔ ہمیشہ کی طرح ضلع رنگاریڈی میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار زوروں پر ہے۔ یکم اپریل تا 31 اگسٹ 2021 تک جملہ 95,049 دستاویزات کے رجسٹریشن ہوئے جس کے ذریعہ حکومت کو تقریباً 1,088 کروڑ کی آمدنی ہوئی۔ دوسرے مقام پر ضلع میڑچل ہے جہاں 58,444 دستاویزات کا رجسٹریشن ہوا جس سے حکومت کو 614 کروڑ روئے کی آمدنی ہوئی۔ ضلع عادل آباد میں سب سے کم 15,740 دستاویزات کی رجسٹری ہوئی۔N