ایٹالہ راجندر کو دیگر طبقات کی حمایت و تائید ، کے سی آر کے خاندانی حکمرانی کے خلاف اتحاد پر عوامی توقعات
حیدرآباد۔ ریاست تلنگانہ میں ریڈی اور مدیراج طبقہ کا نیا سیاسی اتحاد فروغ پارہا ہے اور مدیراج طبقہ سے تعلق رکھنے والے سابق ریاستی وزیر صحت مسٹر ایٹالہ راجندر کو نہ صرف ان کی اپنی برادری بلکہ ریڈی طبقہ کی بھی زبردست حمایت حاصل ہونے لگی ہے۔چیف منسٹرمسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی جانب سے ایٹالہ راجندر کو کابینہ سے بے دخل کئے جانے کے بعد ریاست تلنگانہ میں جہاں طبقاتی سیاست کو کافی اہمیت حاصل ہے مسٹر ایٹالہ راجندر کو نہ صرف ان کے اپنے طبقہ بلکہ دیگر طبقات اور ریڈی طبقہ کی بھی مکمل تائید حاصل ہونے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ کہ ریاست میں بی سی ریڈی اتحاد تلنگانہ میں ویلمہ طبقہ کی حکمرانی کے خاتمہ کا سبب بن سکتا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ایٹالہ راجندر کو وزارت سے ہٹائے جانے کے بعد تلنگانہ میں ریاست میں خاندانی حکمرانی کے خلاف سرگرم قائدین پروفیسر کودنڈارام ‘ مسٹر کنڈا وشویشور ریڈی ‘ مسٹر ریونت ریڈی کے علاوہ دیگر قائدین کی جانب سے مسٹر ایٹالہ راجندر کا دفاع کیا جانے لگا ہے اور ریڈی طبقہ کے سیاسی قائدین کے ساتھ ساتھ بی سی طبقہ کے سیاسی قائدین نے بھی مسٹر ایٹالہ راجندر کا دفاع کرتے ہوئے کے سی آر خاندان کو نشانہ بنانے لگے ہیں اور ویلمہ طبقہ کی بدعنوانیوں کے علاوہ کے سی آر خاندان کی سرپرستی میں ہونے والی بدعنوانیوں پر حکومت کی خاموشی کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔ سیاسی ماہرین اور سرکردہ سیاسی شخصیات کا کہناہے کہ ریاستی حکومت اور چیف منسٹر کا طرز کارکردگی نے تلنگانہ میں سیاسی صورتحال کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اب جو ریڈی اور بی سی طبقہ کے درمیان اتحاد کے ساتھ ایک نئی سیاسی جماعت منظر عام پر آئے گی وہ ریاست میں بہترین متبادل ثابت ہوگی ۔ بتایاجاتا ہے کہ سیاسی متبادل کے طور پر تلنگانہ جنا سینا کے علاوہ ایک اور نئی سیاسی جماعت کے متعلق بھی غور کیا جا رہاہے او رکہا جا رہاہے کہ تلنگانہ میں بی سی اور ریڈی طبقہ کے اتحاد کے ساتھ اگر کوئی طاقت ابھرتی ہے تو ایسی صورت میں برسراقتدار جماعت کو مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ایٹالہ راجندر کو تلنگانہ راشٹر سمیتی سے معطل کرنے کے سلسلہ میں ابھی تک کوئی احکامات جاری نہیں کئے گئے ہیں لیکن کہا جا رہاہے کہ ریاستی کابینہ سے بے دخل کئے جانے کے بعد تلنگانہ راشٹر سمیتی مسٹر ایٹالہ راجندر کی سرگرمیوں پر نظریں مرکوز کئے ہوئے ہے اور ریاست میں مخالف کے سی آر تصور کئے جانے والے قائدین پروفیسر کودنڈا رام ریڈی ‘ مسٹر اے ریونت ریڈی ‘ مسٹر کونڈا وشویشور ریڈی کے علاوہ مسٹر وی ہنمنت راؤ اور دیگر قائدین نے بھی ایٹالہ راجندر کے خلاف کی گئی کاروائی پر اعتراض کرتے ہوئے ان سے یکجہتی کا مظاہر کیا اور کہا کہ وہ خاندانی سیاسی نظام سے مقابلہ میں تنہاء نہیں ہیں ۔ ریاست تلنگانہ میں جاری سیاسی بحران کے دوران تشکیل دیئے جانے والے اس اتحاد سے تلنگانہ عوام کو بھی توقعات وابستہ ہونے لگی ہیں ۔