تلنگانہ میں زرعی اغراض کیلئے ڈرون کے ذریعہ کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ

   


حیدرآباد: ملک بھر کی کسی بھی ریاست میںزرعی اغراض کے لئے کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ ڈرون کے ذریعہ کئے جانے کی اجازت حاصل نہیں ہے لیکن ریاست تلنگانہ میں ماہرین کی جانب سے ڈرون کے ذریعہ کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کو یقینی بنانے کے اقدامات کاجائزہ لے رہے ہیں۔ کسانوں کو کیڑے مار ادویات کا راست سامنا کرنے سے محفوظ رکھنے کے علاوہ انہیں ان ادویات کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے ڈرون کے ذریعہ کیڑے مار ادویات کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے کیونکہ اس عمل سے کسانو ںکی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔ تلنگانہ میں پروفیسر جئے شنکر تلنگانہ اسٹیٹ اگریکلچر یونیورسٹی کے ماہرین ماروت ڈرون ٹیک کی جانب سے تیار کئے گئے ڈرون کا جائزہ لینے کے علاوہ کسانوں کیلئے اس ڈرون کے استعمال کے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی میں مصروف ہیں اوراس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ کس طرح سے ان کوششوں کو کامیاب بنایا جائے اور ڈرون کے استعمال کے ذریعہ جراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ کے ساتھ کسانوں کے تحفظ اور ان کی صحت کو متاثر ہونے سے کس طرح سے بچایا جاسکے۔ ریاست تلنگانہ میں دھان‘ مسور‘ سویا کے علاوہ کپاس اور مونگ پھلی کی فصل پر جرثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ ناگزیر ہوتا ہے اور ریجنل اگریکلچرل ریسرچ اسٹیشن کی جانب سے ورنگل ‘ جگتیال ‘ پالیم ‘ تانڈور اور راجندرنگر میں ہونے والی ان فصلوں پر تحقیق کا عمل جاری ہے۔