ریاست میں ایک سال میں مجموعی طور پر 3.2 میٹر گراوٹ ، میدک میں بدترین صورتحال
حیدرآباد۔2اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ میں زیر زمین سطح آب میں گراوٹ تشویشناک ہے اور اس گراوٹ کو روکنے کے لئے زیر زمین سطح آب میں اضافہ کیاجانا ناگزیر ہے۔ سال گذشتہ کے ماہ جولائی کے دوران ریاست تلنگانہ میں جو زیر زمین سطح آب ریکارڈ کی گئی تھی اس مرتبہ اس میں مزید گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ریاست میں مجموعی اعتبار سے زیر زمین سطح آب ریکارڈ کی گئی ہے وہ 14.40 میٹر زیر زمین ہے۔ریاست میں سب سے زیادہ زیر زمین آب نچلی سطح پر میدک میں ہے جہاں 27.5 میٹر ریکارڈ کیا گیا ہے اور سے بہتر زیر زمین آب کی صورتحال 7.39 میٹر ضلع کمرم بھیم میں ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ شہر حیدرآباد سے کافی بہتر ہے۔ سال گذشتہ کے اعتبار سے اگر زیر زمین پانی کی گراوٹ کا جائزہ لیا جائے تو سب سے خراب حالت ضلع میڑچل کی ہے جہاں سال گذشتہ سے اب تک8.24 میٹر پانی اور نیچے چلا گیا ہے اور سب سے کم فرق ضلع ناگر کرنول میں ریکارڈ کیا گیا جہاں زیر زمین سطح آب میں 0.3 میٹر کی معمولی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ شہر حیدرآباد میں زیر زمین سطح آب میں گذشتہ ماہ کے اعتبار سے 1.74 میٹر کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ۔ماہ جون کے دوران زیر زمین سطح آب 10.33 میٹر ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ ماہ جولائی کے دوران سطح آب 9.11 ریکارڈ کی گئی ہے۔ریاست کے تمام اضلاع میں مجموعی گراوٹ 3.20 میٹر ریکارڈ کی گئی ہے اور کسی بھی ضلع میں زیر زمین سطح آب میں اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔ماہرین جغرافیہ و ارضیات کے مطابق بارش کے موسم میں پانی اگر زمین میں جذب ہوتا ہے تو ایسی صور ت میں زیر زمین سطح آب میں بہتری ریکارڈ کئے جانے کی امید کی جا سکتی ہے اور زیر زمین سطح آب میں اضافہ پانی کی قلت کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔