تلنگانہ میں ستمبر میں شدید بارش کا کوئی امکان نہیں

   

حیدرآباد _ 29 اگست ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اس سال کا مانسون آٹھ سال کے بعد سب سے کمزور مانسون ثابت ہوا ہے۔ اس لئے مانسون کے اثر کے باعث ستمبر میں شدید بارشوں کا کوئی امکان نہیں ہے اور اگست کے پورے مہینے میں موسم پہلے ہی خشک رہا۔ درحقیقت، جنوب مغربی مانسون اس سال دیر سے پہنچا۔ اس کے نتیجے میں اس سال جون میں ملک میں بارشوں میں کمی ہوئی جس کے بعد مانسون فعال ہوگیا اور ملک بھر میں سب سے زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ جولائی میں 489.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ جون میں اوسط سے 9 فیصد کم بارش ہوئی تھا جولائی میں 13 فیصد زیادہ بارش ہوئی۔ اگرچہ مانسون کی واپسی میں تاخیر کی وجہ سے گزشتہ چار سالوں سے ستمبر میں معمول سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے لیکن محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ مشرقی اور شمالی ریاستوں میں معمول سے کم بارشیں ہوں گی۔جنوبی ہندوستان کی بعض ریاستوں میں جاریہ سال مانسون کی بارش کم ہونے کی پیش قیاسی کی گئی ہے وہیں شمالی ہندوستان کی بیشتر ریاستوں میں بارش کا قہر جاری ہے ۔ مہاراشٹرا اور راجستھان کے بعد ہماچل پردیش اور اتراکھنڈمیں شدید بارش کے باعث بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ہے ۔ ہماچل پردیش کے پہاڑی علاقوں میں مٹی کے تودے کھسکنے سے کئی عمارتیں منہدم ہوگئیں ۔ ریاستی حکومت کے علاوہ مرکزی حکومت کو بھی صورتحال پر قابو پانے کیلئے ریسکیو ٹیموں کو روانہ کرنا پڑا۔ ہماچل پردیش میں اب بھی صورتحال انتہائی خراب ہے ۔