محکمہ تعلیم کی جانب سے ابتداء میں 18 جنوری سے نویں اور دسویں جماعتوں کے آغاز کی تجویز
حیدرآباد: تلنگانہ کے محکمہ تعلیم کے منصوبوں پر اگر عمل آوری کی جاتی ہے تو ریاست میں سنکرانتی تہوار کے بعد اسکولوں کی کشادگی متوقع ہے۔ محکمہ تعلیم نے 18 جنوری سے اسکولوں کو کھولنے کی تجویز رکھی ہے۔ ابتداء میں نویں اور دسویں کے طلبہ کی جماعتوں کا آغاز کیا جائے گا تاہم اس کے لئے ریاست میں کورونا وائرس کی وباء کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور ساتھ ہی طلبہ کے علاوہ سرپرستوں اور اسکول انتظامیہ کے ردعمل پر بھی غور کیا جائے گا۔ مثبت ردعمل کی صورت میں چھٹویں تا آٹھویں جماعت کے طلبہ کی کلاسیس کی بھی اجازت دینے کا امکان ہے۔ اس ضمن میں منظوری کیلئے ایک تجویز حکومت کو پیش کی گئی ہے۔ رہائشی اسکولس و اداروں کو بھی دوبارہ کھولنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ اسکولوں کی کشادگی کی صورت میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ کوویڈ 19 کے تمام احتیاطی قواعد پر عمل کرنا اسکولوں کیلئے ضروری ہوگا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 18 جنوری سے نویں اور دسویں کلاسیس کے آغاز کی تجویز پیش کی گئی ہے تاہم حکومت اسکولوں کی کشادگی سے متعلق قطعی فیصلہ کرے گی۔ یہاں یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ کورونا وائرس کی وباء کے پیش نظر گذشتہ مارچ سے ریاست کے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔ طلبہ کے تعلیمی سال اور ان کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بیشتر اسکولوں کی جانب سے آن لائن؍ ڈیجیٹل کلاسیس منعقد کی جارہی ہیں۔ خانگی اسکولوں کی جانب سے ویڈیو کالنگ ایپس بشمول زوم کے ذریعہ آن لائن کلاسیس کا اہتمام کیا جارہا ہے۔سرکاری اسکول کے طلبہ دوردرشن اورT-SAT چیانلس کے ذریعہ ڈیجیٹل تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع نے بتایا کہ دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات منعقد ہوسکتے ہیں تاہم اُن کے انعقاد میں کچھ تاخیر ہوسکتی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن ( سی بی ایس ای ) کی جانب سے بورڈ ایگزام منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تو تلنگانہ میں امتحانات منعقد کیوں نہیں کئے جاسکتے۔اسی دوران ایک سروے کے مطابق 69 فیصد سرپرست تلنگانہ میں اپریل میں ہی اسکولوں کی کشادگی چاہتے ہیں جبکہ23 فیصد جنوری کے حق میں ہیں۔