تلنگانہ میں سوشیل میڈیا کے ذریعہ نفرت کا فروغ اور مسلمان نشانہ

   

حلیم کے خلاف ہیاش ٹیاگ سے تجارت متاثر ، پولیس کی خاموشی سے فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند
حیدرآباد۔23فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں سوشل میڈیا کے ذریعہ نفرت کے فروغ اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور محکمہ پولیس کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی کے نتیجہ میں ریاست کے مختلف مقامات پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والے واقعات رونما ہونے لگے ہیں۔ فرقہ وارنہ اورزہر آلودہ ذہنوں کی جانب سے حلیم کی تجارت کو نشانہ بنانے #SayNoToHaleem جیسے ہیاش ٹیگ چلاتے ہوئے انہیں ہراساں کیا جارہا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبا دوسکندرآباد کے علاوہ ریاست کے مختلف اضلاع میں چلائی جانے والی اس مہم کے نتیجہ میں اس ماہ مبارک کے دوران فروخت کی جانے والی حلیم کی فروخت پر کوئی منفی اثر نہیں ہورہا ہے کیونکہ حلیم کے ذائقہ سے محفوظ ہونے والے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی ان پوسٹوں کو دیکھتے ہوئے حلیم کھانے یا نہ کھانے کافیصلہ نہیں کرتے بلکہ جو افراد کھانے کے شوقین ہیں وہ ماہ رمضان المبارک کے دوران اپنے مسلم دوستوں کے ساتھ یا اپنے افراد خاندان کے ساتھ گھوم کر مختلف مقامات کی حلیم کا مزہ لوٹتے ہیں۔ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ریاست کے مختلف مقامات پر فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کی جس انداز میں کوششیں کی جار ہی ہیں فرقہ پرستوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی جانے والی ان پوسٹوں کو بھی اسی کوشش کے حصہ کے طور پر دیکھتے ہوئے کاروائی کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ بتایاجاتاہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعہ نفرت انگیز مہم چلانے والوں نے مسلم کاروبار کو نشانہ بنانے کا نیا سلسلہ شروع کیاہے اور یہ باور کروانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ حلیم کی تجارت کو ہونے والا فائدہ دراصل اکثریتی طبقہ کے افراد کی جانب سے حلیم کے استعمال میں ہونے والے اضافہ کے نتیجہ میںہورہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس انتظامیہ سوشل میڈیا پر بالواسطہ طور پر کی جانے والی بائیکاٹ کی اس اپیل پر کسی بھی طرح کی کاروائی کے بجائے تاحال خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے لیکن بیشتر تمام اعلیٰ عہدیداروں کے علم میں اس بات کا لایا جاچکا ہے اور متعلقہ شعبہ کے عہدیدار اعلیٰ عہدیداروں کی ہدایات کا انتظار کر رہے ہیں۔3