تلنگانہ میں سیاحت کے فروغ کے لیے منصوبہ بندی

   

اسٹیٹ ٹورازم کارپوریشن کی جانب سے مختلف پیاکیجس کے اعلان کا فیصلہ
حیدرآباد۔12اگسٹ(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں سیاحت کے فروغ کے لئے تلنگانہ اسٹیٹ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے متعدد اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اورکہا جا رہاہے کہ جلد ہی تلنگانہ اسٹیٹ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن ملک کی دیگر ریاستوں کے سیاحوں کو راغب کرنے کیلئے ریاستی حکومتوں اور انتظامیہ سے رابطہ قائم کرتے ہوئے فضائی سفر کے ساتھ تلنگانہ میں سیاحت کے فروغ کے لئے پیاکیجس کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مسٹر یو سرینواس گپتا صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے اس سلسلہ میں بتایا کہ ریاست میں سیاحت کے فروغ کے لئے اقدامات کی منصوبہ بندی کا عمل جاری ہے اور آئندہ چند ماہ میں اندرون سیاحوں کو تلنگانہ کی سیاحت کی جانب سے راغب کرنے کے لئے مختلف پیاکیجس کا آغاز کیا جائے گا جس میں فضائی سفر بھی شامل ہوگا۔ ملک بھر میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں گذشتہ دو برسوں کے دوران سیاحوں کی آمد ورفت کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے فیصلوں کے سبب شدید متاثر ہوئی ہے اور کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران سیاحتی مراکز کو بھی بند رکھے جانے کی وجہ سے ریاستی حکومتوں کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تلنگانہ میں لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے ساتھ ہی سیاحت کے فروغ کے لئے اقدامات کا آغاز کرنے کے علاوہ سیاحتی مراکز کو محفوظ بنانے کی کوششیں شروع کی جاچکی ہیں اور اب جبکہ ریاست تلنگانہ میں موجود رامپپا مندر کو اقوام متحدہ کے آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل کئے جانے کے بعد ریاست میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ شہر حیدرآباد ملک کے کئی شہروں کے علاوہ ریاستوں کے شہریوں کے لئے ایک بہترین سیاحتی مقام ہے اور گرمائی تعطیلات کے دوران حیدرآباد میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ ریکار ڈ کیا جاتا تھا لیکن 2020مارچ میں عین گرمائی تعطیلات کے آغاز سے قبل لاک ڈاؤن کے بعد سے حالات معمول پر نہیں آپائے ہیں جس کی وجہ سے سیاحتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں لیکن اب تلنگانہ اسٹیٹ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے ریاست بھر میں سیاحت کو فروغ دینے کے اقدامات کے بعد کہا جا رہاہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ریاست میں ٹورازم کارپوریشن کی جانب سے تشہیری مہم اور سیاحوں کو راغب کرنے کے نتائج منظر عام پرآنے لگیں گے اور سیاحوں کو ریاست کے ان تاریخی مقامات کے علاوہ دیہی مقامات اور قدرتی آبشار و جنگلات کی سیاحت کو بھی ترجیحی سیاحت میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہاہے۔