دکانداروں نے کروڑہا روپئے کا آرڈر دیا، دو دن میں 180 کروڑ کی شراب فروخت
حیدرآباد ۔8۔ مئی(سیاست نیوز) تلنگانہ میں شراب کی فروخت کی اجازت کے بعد دیگر ریاستوں کے مقابلہ بھاری مقدار میں فروخت کی اطلاعات ملی ہیں۔ پہلے دن ریاست میں 100 کروڑ روپئے کا کاروبار ہوا تھا جبکہ دوسرے دن 80 کروڑ کا کاروبار ہوا ہے ۔ شراب کی دکانات کے مالکین نے بیوریج کارپوریشن سے 263 کروڑ کی شراب خریدی ہے۔ حکومت نے ریاست بھر میں شراب کی فروخت کی اجازت دے دی جس کے نتیجہ میں سرکاری خزانہ کو بھاری منافع کا امکان ہے۔ لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے باوجود پہلے دن 100 کروڑ کا کاروبار ہوا جبکہ دوسرے دن 20 کروڑ کا کم کاروبار ریکارڈ کیا گیا۔ شراب کے دکانات نے موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے بڑے پیمانہ پر آرڈرس دیئے ہیں اور ابھی تک 263 کروڑ کی شراب خریدی گئی ہے۔ حیدرآباد میں شراب کی دکانات پر ہجوم میں کمی دیکھی جارہی ہے جبکہ نواحی علاقوں اور اضلاع میں ابھی بھی قطاریں موجود ہیں۔ عام حالات میں ایک دن میں 50 تا 60 کروڑ روپئے کی شراب فروخت ہوتی ہے لیکن لاک ڈاؤن کے دوران 45 دنوں کے بعد شراب کی دکانات کھولی گئیں اور دو دن میں تقریباً 180 کروڑ روپئے کاروبار ہوا۔ محکمہ ایکسائز کے عہدیداروں نے بتایا کہ بیوریج کارپوریشن کو 2.96 لاکھ شراب کے کیس اور 2.30 لاکھ بیر کے کیس کا آرڈر ملا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں مختلف برانڈ کی شراب دستیاب ہونے کے سبب آندھراپردیش اور دیگر پڑوسی علاقوں کے عوام تلنگانہ کا رخ کر رہے ہیں۔ آندھراپردیش میں روایتی برانڈ کی شراب کے بجائے نئی برانڈ فروخت کی جارہی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ حکومت سے قربت رکھنے والے افراد نے نئی برانڈ تیار کی ہے جسے مارکٹ میں پیش کیا گیا۔ روایتی برانڈ نہ ملنے سے مایوس عوام تلنگانہ کا رخ کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش کے کئی تاجروں نے تلنگانہ میں بڑے پیمانہ پر شراب کی خریدی کی ہے تاکہ آندھراپردیش میں زائد قیمت پر فروخت کیا جاسکے ۔
