حکومت کی خاموشی پر سوشیل میڈیا پر عوام کا ردعمل و فکر مندی
حیدرآباد۔13ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ اور چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ ریاست میں شہریت ترمیم بل اور این آر سی کا نفاذ نہ کرنے کا اعلان کب کریں گے !سوشل میڈیا پر کیرالہ اور پنجاب کے علاوہ بنگال کی جانب سے کئے جانے والے باضابطہ اعلان کے بعد ریاستی حکومت سے سوشل میڈیا کے ذریعہ متفکر شہریوں نے استفسار کرنا شروع کردیا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس قانون کا نفاذ نہ کرنے کا اعلان کب کیا جائے گا! حکومت تلنگانہ میں برسراقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں شہریت ترمیم بل کی مخالفت پر رائے دہی میں حصہ لیا لیکن حکومت کی جانب سے اب تک ریاست میں اس بل کے عدم نفاذ کے سلسلہ میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا جس پر شہریوں نے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ریاستی وزراء اور چیف منسٹر سے استفسار کیا جا رہاہے کہ آیا حکومت نے تلنگانہ میں اس قانون کے نفاذ کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ کیا ہے یا نہیں اگر کیا ہے تو فیصلہ سے عوام کو کب واقف کروایا جائے گا۔ تلنگانہ عوام کی جانب سے بل کی دونوں ایوانوں میں مخالفت کے فیصلہ کی سراہنا کی جا رہی ہے لیکن ساتھ میں اب تک حکومت اور چیف منسٹر کی جانب سے کوئی اعلان نہ کئے جانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا جا رہا ہے کہ ریاستی حکومت کب اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کرے گی۔تلنگانہ راشٹرسمیتی کی جانب سے سابق میں طلاق ثلاثہ ‘ دفعہ 370کی تنسیخ کے علاوہ دیگر متنازعہ فیصلوں پر حکومت ہند کی تائید کی تھی لیکن شہریت ترمیم بل پر ٹی آر ایس کا موقف بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف رہا مگر تاحال اس بات کا اعلان نہیں کیا گیا کہ ریاست میں قانون کو نافذ کیا جائے گا یا نہیں !ملک کی دیگر ریاستوں پنجاب‘ کیرالہ اور بنگال نے واضح کردیا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے منظورہ قانون کو ان ریاستوں میں نافذ نہیں کیا جائے گا اور مرکزی حکومت کی جانب سے جبری نفاذ کی صورت میں اس کی شدت سے مخالفت کی جائے گی۔ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہاہے کہ اگر قانون نافذ کیا جاتا ہے تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے اور اگر قانون کے نفاذ کے فیصلہ کو مسترد کردیا جاتا ہے تو اس کے ریاست پر کیا منفی اثرات مرتب ہوں گے لیکن سوشل میڈیا پر اس سوال نے حکومت کیلئے مشکل حالات پیدا کردیئے ہیں کیونکہ صرف قانون کی مخالفت کافی نہیں ہے بلکہ اس قانون کے نفاذ کو روکنے کا بھی اعلان ناگزیر ہے۔