حکومت کی عدم دلچسپی اور بے توجہی سے اقلیتی اداروں کی کارکردگی ٹھپ ، ہجومی تشدد پر قابو پانے پر زور
حیدرآباد ۔ 16 ۔ جولائی : ( راست ) : یونائٹیڈ مسلم فورم کا اجلاس آج بمقام درگاہ حضرت شاہ خاموشؒ بصدارت جناب محمد رحیم الدین انصاری منعقد ہوا ۔ جس میں حسب ذیل امور طئے پائے : ( ۱ ) ریاست میں حالیہ دنوں شہید مسجدوں کی عاجلانہ تعمیر پر حکومت سے مطالبہ ۔ ( ۲ ) اقلیتی اداروں کی کارکردگی جو حکومت کی عدم دلچسپی اور بے توجہی کی وجہ سے ٹھپ پڑی ہوئی اس کی طرف حکومت کو متوجہ کرنا ۔ ( ۳ ) ملک میں بڑھتے ہوئے ہجومی تشدد پر شدید تشویش کا اظہار اور اس کو سختی سے کچلنے ٹھوس اقدامات کرنے مرکزی حکومت و ریاستوں کی حکومتوں سے مطالبہ ۔ جس میں کہا گیا کہ گذشتہ ماہ جھارکھنڈ کے ضلع سروے کیلا میں ایک نوجوان شمس تبریز انصاری کی پر تشدد ہجوم کے ہاتھوں درد ناک شہادت ہندوستانی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے اس واقعہ سے قبل اور بعد بھی ملک کے کئی حصوں میں ہجومی تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں ۔ مرکزی حکومت ریاستی حکومتیں ان سنگین واقعات پر موثر قانونی و انتظامی اقدامات نہیں کر پارہی ہیں ۔ جس کے سبب اشرار کے حوصلے بلند ہوتے چلے جارہے ہیں ۔ فورم کے ذمہ داروں نے ہجومی تشدد کے تدارک کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کو روبہ عمل لانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ ان واقعات پر سیاسی جماعتوں کے قائدین کے موقف کو ناقابل فہم قرار دیتے ہوئے فورم کے عہدیداران نے کہا کہ ملک کی یکجہتی و سالمیت کو یقینی بنانے میں سبھی جماعتوں کے ذمہ داروں کو ان واقعات کے تدارک کے لیے آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ سماج میں جس طرح نفرت و تعصب کا زہر پھیل رہا ہے اس کے انسداد کے لیے میڈیا کو اپنا کردار نبھانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے توقع کی کہ ہجومی تشدد سے نمٹنے سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق قواعد وضع کرتے ہوئے اس کی موثر عمل آوری کے لیے مرکزی حکومت ریاستوں کو پابند بنائے ہجومی تشدد کے شکار افراد کے ورثاء کو ایک کروڑ روپئے کا معاوضہ ان کے خاندان کے کسی اہل فرد کو سرکاری ملازمت اور مکان فراہم کرے ۔ اس موقع پر مولانا سید اکبر نظام الدین حسینی صابری ، مولانا میر قطب الدین علی چشتی ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، جناب ضیا الدین نیر ( نائب صدور ) ، جناب سید منیر الدین احمد مختار ( جنرل سکریٹری ) ، مولانا سید مسعود حسین مجتہدی ، مولانا تقی رضا عابدی ، مولانا صفی احمد مدنی ، جناب عمر احمد شفیق ( سکریٹریز ) ، مولانا سید احمد الحسینی سعید قادری ( خازن ) ، مولانا شاہ جمال الرحمن مفتاحی ، مولانا مفتی صادق محی الدین ، مولانا اکرم پاشاہ تخت نشین ، مولانا سید ظہیر الدین علی صوفی ، مولانا سید شاہ فضل اللہ قادری موسوی ، مولانا ظفر احمد جمیل ، مولانا مفتی معراج الدین ابرار ، ڈاکٹر بابر پاشاہ ، ڈاکٹر مشتاق علی ، جناب محمد شفیع الدین ایڈوکیٹ موجود تھے ۔۔
