مسلم ارکان اسمبلی کی خاموشی معنیٰ خیز ، شہری حیرت زدہ ، احتجاج تک درج نہیں کروایا گیا
حیدرآباد۔19جولائی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں گذشتہ چند ماہ کے دوران شہید کی گئی دو مساجد کے متعلق تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے دوروزہ خصوصی اجلاس کے دوران مکمل خاموشی چھائی رہی اور کسی نے کتہ گوڑم (کھمم) اور عنبرپیٹ میں شہید کی گئی مساجد کے مسئلہ کوایوان میں نہیں اٹھایا جبکہ حکومت نے دو روزہ خصوصی اجلاس نئے بلدی قوانین کو منظور کرنے کیلئے طلب کیا تھا اور شہر حیدرآباد کے علاقہ کھمم میں یکخانہ مسجد کو مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد نے شہید کیا تھا اور ان عہدیدارو ںکے خلاف اب تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی مسجد کی از سر نو تعمیر کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے کوئی تیقن دیا گیا اس کے باوجود ایوان اسمبلی میں اس مسئلہ پر اختیار کردہ مکمل خاموشی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلم ارکان اسمبلی کے لئے اب یہ مسئلہ کوئی موضوع نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ اہم اور حساس مسائل میڈیکل کالجس‘خانگی کارپوریٹ ہاسپٹلس کے اداشدنی بلز وغیرہ رہ گئے ہیں۔تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کا اجلاس 2دن کے دوران جملہ 4گھنٹے 44 منٹ تک جاری رہا اور اس دوران جملہ 16ارکان اسمبلی نے مباحث میں حصہ لیا جن میں مقامی جماعت کے ارکان بھی شامل ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں دو مساجد کی شہادت کے باوجود مسلم سیاستدانوں کی خاموشی انتہائی معنی خیز ہوچکی ہے اور اب شہریان حیدرآباد مرکزی وزیر داخلہ کی زبان میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’ شائد ذہنوں میں خوف بیٹھ گیا ہے ‘‘ جس کے سبب مساجد کی شہادت پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کا اجلاس حکومت تلنگانہ نے نئے بلدی قوانین کی منظوری کیلئے طلب کیا تھا اور شہر حیدرآباد کے علاقہ میں جو مسجد یکخانہ شہید کی گئی ہے وہ بلدیہ کی نگرانی میں ہی کی گئی کاروائی تھی تو ایسی صورت میں خصوصی اجلاس کے دوران یہ مسئلہ نہ اٹھائے جانے کا بھی بہانہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اجلاس بلدی قوانین سے متعلق تھا اور اس کے علاوہ مسئلہ کوئی بھی ہو اور کتنا ہی خصوصی اجلاس کیوں نہ ہو ان مسائل پر ایوان میں احتجاج تو درج کروایا جا سکتا تھا اور حکومت کو مسئلہ پر جواب دینے کیلئے مجبور کرنے کی کوشش کی جا سکتی تھی۔ریاستی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مساجد کی شہادت پر اختیار کی جانے والی خاموشی پر شہریوں کو حیرت ہونے لگی ہے اور کہا جار ہاہے کہ اس قدر خاموشی کی توقع نہیں تھی بلکہ یہ سمجھا جا رہا تھا کہ مقامی جماعت کی جانب سے مساجد کی شہادت کے مسئلہ کو مناسب فورم پر اٹھاتے ہوئے مسجد کی از سر نو تعمیر کے احکام حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی جائے گی لیکن شہریو ںکو اس مسئلہ پر بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
