تلنگانہ میں صحت کا قلمدان کسی بھی وزیر کو راس نہیں آیا

   

6 برسوں میں تین وزراء کی سیاسی حالت بگڑ گئی، چیف منسٹر کے پاس صحت کا قلمدان پارٹی میں موضوع بحث، تلنگانہ اور وزیر صحت کی حالت خراب
حیدرآباد: تلنگانہ ریاست کی کورونا کے سبب صحت خراب ہے تو دوسری طرف وزارت صحت کا قلمدان کسی بھی وزیر کو راس نہیں آیا۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے حکومت میں دیگر قلمدان کی ذمہ داری نبھانے والے وزراء کی سیاسی اور نجی صحت ٹھیک رہی لیکن وزارت صحت کا قلمدان جن کو بھی دیا گیا ، ان کی سیاسی صحت بگڑ گئی اور وہ مختلف تنازعات کا شکار ہوگئے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ راجندر کی برطرفی کے بعد جس وقت وزارت صحت کا قلمدان چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے حوالے کیا گیا ، اس وقت وہ کورونا کا شکار تھے۔ ظاہر ہے کہ جب وزیر صحت ہی بیمار ہوں تو پھر ریاست کی صحت کا خیال کس طرح رکھا جاسکتا ہے ۔ اسے محض اتفاق کہا جائے یا پھر وزارت صحت کی قسمت کہ جس کسی نے وزارت صحت کی ذمہ داری سنبھالی ، انہیں کم وقت میں وزارت سے محروم ہونا پڑا۔ ہوسکتا ہے کہ اسی پس منظر میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ وزارت صحت کا قلمدان کسی اور وزیر کے حوالے کرتے ہوئے خود کو کسی بھی تنازعہ سے بچالیں گے۔ ورنگل سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر راجیا کو ڈپٹی چیف منسٹر کے ساتھ وزارت صحت کا قلمدان دیا گیا تھا لیکن 10 ماہ کے قلیل عرصہ میں انہیں نہ صرف وزارت سے برطرف کردیا گیا بلکہ ان کے سیاسی مستقبل کو عملاً گہن لگ گیا۔ ڈاکٹر راجیا جن کا تعلق دلت طبقہ سے ہے ، وزارت سے اچانک برطرفی کی حقیقی وجوہات پر آج تک راس کے پردے ہیں۔ بظاہر یہ کہا گیا کہ راجیا مختلف بدعنوانیوں میں ملوث تھے اور ان کا رویہ عہدیداروں کے ساتھ ٹھیک نہیں تھا ۔ ان کے بعد محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر لکشما ریڈی کو وزارت صحت کی ذمہ داری دی گئی لیکن ان کیلئے یہ وزارت راس نہیں آئی کیونکہ دوسری مرتبہ حکومت کی تشکیل کے بعد انہیں وزارت میں شامل نہیں کیا گیا ۔ کئی وزراء جنہوں نے پہلی میعاد میں صحت سے ہٹ کر دیگر قلمدان سنبھالے تھے، انہیں دوبارہ کابینہ میں جگہ دی گئی لیکن کسی بھی تنازعہ کے بغیر وزارت صحت کی ذمہ داری نبھانے والے ڈاکٹر لکشما ریڈی کو وزارت میں جگہ نہیں دی گئی۔ حکومت کی دوسری میعاد میں ایٹالہ راجندر کو وزارت صحت کا قلمدان حوالے کیا گیا تھا لیکن حکومت کی میعاد کی تکمیل سے قبل ہی وہ وزارت سے برطرف کردیئے گئے ۔ چیف منسٹر سے اختلافات کے نتیجہ میں راجندر کو نہ صرف قلمدان بلکہ وزارت سے محروم ہونا پڑا ۔ راجندر کے بارے میں خود ٹی آر ایس قائدین کا ماننا ہے کہ وہ تلنگانہ تحریک کے بانیوں میں سے ہیں اور ان کا سیاسی کیریئر بے داغ ہے۔ باوجود اس کے کہ وزارت سے برطرف نے پارٹی قائدین کو حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ وزارت صحت پر فائز قائدین کا جو حشر ہوا ہے ، اسے دیکھتے ہوئے ٹی آر ایس قائدین آپس میں یہ کہنے لگے ہیں کہ تلنگانہ میں اب وزارت صحت کسی کو راس نہیں آئے گی ۔ جس کسی کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانا ہو تو اسے وزارت صحت کا قلمدان دے دیا جائے ۔ الغرض تلنگانہ میں جو بھی وزیر صحت رہے ، وہ یا تو سیاسی طور پر یا پھر شخصی طور پر غیر صحتمند رہے جس کی تازہ مثال چیف منسٹر کے سی آر ہیں۔ پارٹی قائدین کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر کے پاس دیگر کئی قلمدانوں کے ساتھ وزارت صحت کا قلمدان ہے ، لہذا انہیں سیاسی طور پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ جس کسی کے پاس صرف وزارت صحت کا قلمدان ہوتا ہے تو اس کیلئے سیاسی طور پر مسائل پیدا ہونا یقینی سمجھا جارہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ چیف منسٹر کا نہیں بلکہ وزارت صحت کا اگلا نشانہ کون ہوگا ؟