تلنگانہ میں صنعتی ترقی کے ساتھ کلین انرجی کی پیداوار کے لیے حکومت سنجیدہ

   

چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ایم ڈی امارا راجا گروپ جئے دیوگلا کی ملاقات ، سرمایہ کاری پر بات چیت
حیدرآباد۔3۔جنوری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ میں صنعتی ترقی کے ساتھ کلین انرجی (شفاف توانائی ) کی پیداوار کے سلسلہ میں سنجیدہ ہے اور اس صنعت اور ٹکنالوجی کے استعمال کے معاملہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کو معیاری سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج منیجنگ ڈائریکٹر امارا راجا گروپ مسٹر جئے دیو گلا سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی ۔ چیف منسٹر سے الکٹرک وہیکل بیاٹری تیار کرنے والی اس کمپنی کے ذمہ داروں کی ملاقات کے دوران ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر ڈی سریدھر بابو بھی موجود تھے ۔ چیف منسٹر نے کمپنی کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ الکٹرک وہیکل میں استعمال کی جانے والی بیاٹری کی تیاری کرنے والی کمپنی تلنگانہ میں اپنی سرمایہ کاری اور پراجکٹس کو جاری رکھے گی۔ چیف منسٹر نے کمپنی کے ذمہ داروں کو تیقن دیا کہ ریاستی حکومت ان صنعتی اداروں کے قیام اور پراجکٹس کی تکمیل کے لئے ممکنہ تعاون فراہم کرے گی۔ مسٹر جے دیو گلہ سابق رکن پارلیمنٹ و منیجنگ ڈائریکٹر راما راجا گروپ نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے مرحلہ وار انداز میں تلنگانہ میں 9500 کروڑ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ تیار کیا ہے اور ان پراجکٹس کے قیام سے ریاست میں 4500 نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اس کے علاوہ اتنی ہی تعداد میں بالواسطہ ملازمتوں کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے بتایا کہ ان کی حکومت ریاست میں صنعتی ادارو ںکو فروغ دینے کے علاوہ ریاست میں قابل تجدید توانائی اور متبادل توانائی کی پیداوار پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ الکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہونے والی بیاٹری بالخصوص لیتھیم سے تیار کی جانے والی بیاٹری کے لئے مشہور کمپنی کے نمائندوں کی چیف منسٹر سے ملاقات اور تلنگانہ میں اپنے ادارہ کے قیام اور مزید سرمایہ کاری کے سلسلہ میں مشاورت کے بعد کہا جا رہاہے کہ ریاست تلنگانہ الکٹرک گاڑیوں کی بیاٹری کی تیاری کے معاملہ میں ملک کی دیگر ریاستوں میں سرفہرست بننے کے امکانات ہیں۔امارا راجا کمپنی کی سرمایہ کاری اور بیاٹری کی تیاری کے یونٹ کے قیام کے متعلق گذشتہ برس کمپنی نے ریاستی حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور اپنے صنعتی ادارہ کے قیام کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کردیا تھا اور اب حکومت کی تبدیلی کے بعد کمپنی کے ذمہ داروں نے چیف منسٹر و عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے مزید سرمایہ کاری کا منصوبہ پیش کیا ہے۔3