نارائن پیٹ میں فوڈ پراسیسنگ یونٹ کے قیام کا اعلان، ترقیاتی پروگرام سے ریاستی وزیر کے ٹی آر کا خطاب
نارائن پیٹ۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق و آئی ٹی مسٹر کے تارک راما راؤ نے آج پٹنا پرگتی کے دس روزہ پروگرام کے آخری دن نارائن پیٹ کا دورہ کرتے ہوئے مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح و سنگ بنیاد رکھا۔ وزیر موصوف ٹھیک 10:15 بجے بذریعہ ہیلی کاپٹر منی اسٹیڈیم گراؤنڈ پر پہنچے اور سیدھے ضلع ہاسپٹل روانہ ہوئے جہاں انہوں نے بچوں کے آئی سی یو وارڈ، وینٹی لیٹر اور آکسیجن وارڈوں کا افتتاح انجام دیا۔ ان کے ہمراہ ریاستی وزیر مسٹر وی سرینواس گوڑ، مسٹر نرنجن ریڈی کے علاوہ ارکان اسمبلی مکتھل رام موہن ریڈی، دیور کدرہ وینکٹیشور ریڈی، کوڑنگل کے نریندر ریڈی، ایم پی محبوب نگر مسٹر سرینواس ریڈی، ایم ایل سی شریمتی اوما دیوی، ضلع پریشد صدر نشین محبوب نگر سورنا سدھاکر ریڈی و دیگر موجود تھے۔ بعد ازاں انہوں نے جدید بس اسٹانڈ کے روبرو 6 کروڑ روپئے کے مصارف سے تعمیر کئے جانے والے عصری ترکاری و گوشت مارکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ موضع سنگارگیٹ کے قریب 23 ایکر اراضی پر 10 کروڑ روپئے کے مصارف سے تعمیر کئے جانے والے ٹیکسٹائیل پارک کا سنگ بنیاد رکھا۔ شہر کے امبیڈکر چوراہا تا ساورکر چوک ماڈر روڈ جو 4 کروڑ روپئے کے مصارف سے تعمیر و توسیع کا سنگ بنیاد رکھا۔ بعد ازاں سائی کالونی میں بچوں کے پارک اور کلکٹر آفس کے قریب سائنس پارک کا افتتاح انجام دیا اور سائنس پارک کے قریب ایک زبردست جلسہ عام کو مخاطب کیا۔ قبل ازیں رکن اسمبلی نارائن پیٹ مسٹر ایس راجندر ریڈی، ضلع کلکٹر شریمتی کے ہری چندنا ( آئی اے ایس )، صدر نشین بلدیہ شریمتی گنڈے چندرکانت نے وزیر موصوف کا استقبال کیا۔ مسٹر کے تارک راما راؤ نے عوام کے زبردست اجتماع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نارائن پیٹ قیام تلنگانہ سے قبل آندھراکئی حکومت کے دوران 70 سالوں تک نظرانداز کیا جاتا رہا لیکن کے سی آر نے تلنگانہ حاصل ہونے کے بعد یہاں کے عوام کے مطالبہ اور رکن اسمبلی کی دلچسپی کے سبب کچھ تاخیر سے ہی سہی مزید دو اضلاع ملگ اور نارائن پیٹ کا قیام عمل میں لایا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ترقی سارے ملک میں اظہر من الشمس ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے کہا وہ پڑوسی ریاست جو نارائن پیٹ سے صرف دس کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ان کا اشارہ ریاست کرناٹک کی طرف تھا، کہا کہ کیا عوام نہیں جانتے کہ یہاں سے دس کیلو میٹر دور دونوں ریاستوں میں کیا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے غریب عوام کو ریاستی حکومت دو ہزار روپئے وظیفہ دیتی ہے جبکہ وہاں کرناٹک میں صرف 500 روپئے وظیفہ دیا جاتا ہے۔ یہاں حکومت کسانوں کو 5 ہزار روپئے فی ایکر امداد فراہم کرتی ہے اور ریتو بندھو اسکیم کے تحت فوت ہونے والے کسانوں کو 5 لاکھ روپئے دیئے جاتے ہیں۔ یہاں لڑکی کی پیدائش سے لیکر اس کی شادی تک یعنی پیدائش پر کے سی آر کٹ، مفت تعلیم، بڑی ہونے پر شادی کے لئے ایک لاکھ 16 ہزار روپئے کی امداد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عنقریب تلنگانہ حکومت نے 50 ہزار مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کافیصلہ کیا ہے اور عمل آوری کی جائے گی۔ وزیر موصوف نے اعلان کیا کہ نارائن پیٹ میں فوڈ پراسیسنگ یونٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا جن کے لئے ڈھائی سو ایکر اراضی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے رکن اسمبلی اور ضلع کلکٹر کو اراضی فراہم کرنے کی اپیل کی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ نارائن پیٹ ، زری کی ساڑیوں اور زیورات کیلئے مشہور ہے چنانچہ انہوں نے کہا کہ اس صنعت کوفروغ اور وسعت دینے کیلئے یہاں علحدہ صرافہ بازار اور تربیتی سنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اس جلسہ کو ریاستی وزیر سرینواس گوڑ اور نرنجن ریڈی نے بھی مخاطب کیا۔ مسٹر کے ٹی آر نے نارائن پیٹ ضلع کلکٹر شریمتی ہری چندنا کی ستائش کی اور کہا کہ کم وقت میں نارائن پیٹ ضلع کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وزیر موصوف کے دورہ کے موقع پر اے بی وی پی طلباء نے ان کے گذرنے والے راستہ میں انہیں روک کر احتجاج کیا اور ان کی کار کے سامنے لیٹ گئے ۔ پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے اس احتجاج کو ناکام بنادیا۔ مسٹر کے ٹی آر نے پٹنا پرگتی کے آخری دن نارائن پیٹ کا مصروف ترین دورہ کیا۔ تقریباً ساڑھے تین بجے یہاں سے روانہ ہوئے۔ ان کے دورہ کے موقع پر ٹی آر ایس پارٹی کی جانب سے جابجا استقبالیہ ہورڈنگ لگائے گئے تھے اور پولیس کے معقول انتظامات کئے گئے تھے۔