تلنگانہ میں عوام کو ترجیح دینے والی حکومت ہو خاندان کو ترجیح دینے والی نہیں: مودی

,

   

٭ ریاست میں نیا سورج ابھرے گا ۔ کنول کھلے گا اور تاریکی ختم ہوگی
٭ انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکز کو توہم پرستی کا مرکز بنادیا گیا
٭ ریاست میں کرپشن اور موروثی سیاست کا عروج ۔ عوام ناراض
٭ بیگم پیٹ ائرپورٹ پر وزیر اعظم کا بی جے پی کارکنوں سے خطاب

حیدرآباد 12 نومبر ( رتنا چوٹرانی ) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ان کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ریاست کو لوٹنے والوں کو معاف نہیں کیا جائیگا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تلنگانہ میں حالیہ ضمنی انتخاب کے نتائج نے یہ واضح کردیا ہے کہ ریاست میں کنول کا پھول کھلنے والا ہے ۔ نیا سورج ابھرنے والا ہے اور اندھیرا ختم ہوجائے گا ۔ وزیر اعظم آج دورہ تلنگانہ پر بیگم پیٹ ائرپورٹ پہونچے جہاں سے وہ راما گنڈم روانہ ہوگئے ۔ بیگم پیٹ ائرپورٹ پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا ۔ وزیر اعظم نے ائرپورٹ پر بی جے پی قائدین سے خطاب کیا اور کہا کہ راماگنڈم فرٹیلائزر فیکٹری کو قوم کے نام معنون کرنے آئے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے انہیں فخر ہو رہا ہے ۔ وزیر اعظم نے بی جے پی کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ انہیں تلنگانہ کے بی جے پی کارکنوں پر فخر ہے جنہوں نے ٹی آر ایس حکومت کے مظالم اور زیادتیوں کے باوجود خود کو مستحکم بنایا ہے ۔ بی جے پی ورکرس سے ناانصافیاں کی جا رہی ہیں اس کے باوجود پارٹی کے کارکن مستحکم ہیں اور اس کیلئے وہ ان تمام کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام نے ٹی آر ایس حکومت پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا تھا اور اسے ووٹ کے ذریعہ اقتدار دیا تھا ۔ تاہم جب عوام سے دغا کی جائے تو ریاست تاریکی میں ڈوب جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب زیادہ تاریکی ہوتی ہے تبھی کمل کا پھول کھلتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے کارکن انتہائی محنت کے ساتھ اس تاریکی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ سخت محنت سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے منوگوڑ ضمنی انتخاب کا تذکرہ کیا اور کہا کہ حلقہ کے عوام کی تائید بی جے پی کو حاصل تھی ۔ ٹی آر ایس اس سے خوفزدہ ہوگئی اور اس نے ساری کابینہ کو ایک حلقہ کے ضمنی انتخاب کیلئے سرگرم کردیا تھا ۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ تلنگانہ میں نیا سورج ابھرنے والا ہے اور نیا سویرا دور نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سے بی جے پی کا قدم رشتہ ہے ۔ جب 1963 میں بی جے پی کے دو ارکان لوک سبھا میں تھے تو ایک کا تعلق تلنگانہ کے ہنمکنڈہ سے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی مشکل میں تلنگانہ ہمیشہ پارٹی کا ساتھ دیا ہے اور بی جے پی نے جو مسلسل محنت کی ہے اب وہ رنگ لا رہی ہے اور بی جے پی کو لوک سبھا میں تین سو سے زائد ارکان کی طاقت حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے تہئیہ کرلیا ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی بنے گی اور ملک کے تہذیبی ورثہ اور کلچر کو پیش نظر رکھا جائیگا اور ترقی کی رفتار بڑھائی جائے گی ۔ اس سمت میں پیشرفت جاری ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر کے سی آر کا نام لئے بغیر ان پر تنقید کی اور کہا کہ ریاست میں کرپشن اور موروثی سیاست عروج پر ہے ۔ ریاست کو عوام پہلے خاندان نہیں والی حکومت چاہئے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تلنگانہ کو توہم پرست ریاست میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے نجومیوں سے رابطہ کیا جاتا ہے ۔ کس طرح کا گھر ہونا چاہئے ۔ دفتر کا رخ کیا ہونا چاہئے ۔ کس کو کابینہ میں شامل کرنا چاہئے اور کس کو خارج کرنا چاہئے یہ سب کچھ توہم پرستی کے ذریعہ کیا جاتا ہے ۔ تلنگانہ انفارمیشن ٹکنالوجی کا مرکز ہے اس کے باوجود یہاں توہم پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے جو افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر تلنگانہ کو ت رقی کرنی ہے تو ہمیں اسے پسماندگی سے باہر لانا چاہئے ۔ اس کیلئے ہمیں پہلے توہم پرستی کا خاتمہ کرنا چاہئے ۔ وزیر اعظم نے دعوی کیا کہ اپوزیشن جماعتیں ایک اتحاد بنانے کی کوشش کر رہی ہیں کیونکہ ان کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کی کرپشن تحقیقات سے خوف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ تلنگانہ میں کرپشن عروج پر ہے لیکن ان کی حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں کرپشن میں کمی آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب آن لائین ادائیگی کی جاتی ہے تو کرپشن کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ اس سے حکومت اور عوام کے درمیان راست رابطے بحال ہوتے ہیں۔