حیدرآباد ۔ 16 ستمبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کی تاریخ سے عدم واقفیت اور تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے بے بنیاد حوالے دیکر 17 ستمبر کو یوم نجات نہیں کہا جاسکتا۔ یہ اور بات ہیکہ سیاسی مفاد حاصلہ کی خاطر 17 ستمبر کو یوم نجات سرکاری طور پر منانے کیلئے ایک گوشہ سے پرزور مطالبہ اور کوشش جاری ہیں لیکن تلنگانہ کی عوام کیلئے اس بات کا جاننا ضروری ہیکہ 17 ستمبر 1948ء سے زیادہ تلنگانہ کیلئے یکم ؍ نومبر 1956ء ہی بہت بڑا خطرناک دن ثابت ہوا جس کی دلیل 60 سالہ متحدہ ریاست کی حکمرانی میں ملتی ہے جبکہ 17 ستمبر کو یوم نجات منانے کا مطالبہ کرنے والے مرٹھواڑہ اور کرناٹک کے ان اضلاع میں سرکاری تقاریب کا حوالہ دے رہے ہیں۔ انہیں اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ تلنگانہ عوام کے احساسات مرٹھواڑہ و کرناٹک کے عوام کے احساسات مختلف ہیں بلکہ ان میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔ 17 ستمبر 1948ء تلنگانہ کے حق میں بیرونی حکمرانی اور سیاسی تخریب کاری کیلئے بنیادی دن ثابت ہوا ہے۔ درحقیقت ریاست تلنگانہ کی عوام میں 17 ستمبر کے تعلق سے مختلف رائے پائی جاتی ہے۔ تلنگانہ سٹیزن سوسائٹی نے اس ضمن میں 17 ستمبر 2009ء کی اہمیت پر مشتمل تاریخی مواد بھی جاری کیا تھا۔ یوم نجات کے متعلق یہاں اس بات کا خلاصہ ضروری ہیکہ جب 12 ستمبر 1948 کو آپریشن پولو کے نام سے جو کارروائی ہوئی جس کو پولیس ایکشن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس کارروائی میں لاکھوں انسانی جانیں گئیں جبکہ مؤرخین، دانشووں، ادیبوں یہاں تک کہ ہندوستانی فوج نے بھی اس اقدام کے بعد یوم نجات کے لفظ کا استعمال نہیں کیا جیسا کہ 1962ء میں پوریو گیس حکمرانی سے گوا کی آزادی اور 1972ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کو یوم نجات کے لفظ سے تعبیر کیا گیا حالانکہ پولیس ایکشن کے بعد دو سال تک نظام حیدرآباد کو راج پرمکھ کا خطاب دیتے ہوئے انہیں گورنر کے طرز کا عہدہ دیا گیا۔ 17 ستمبر 1948ء وہ دن ہے جس دن تلنگانہ میں بیرونی حکمرانی اور سیاسی تخریب کاری کا جنم ہوا۔ یہ دن سیاسی تخریب کاری اور تلنگانہ عوام کی حق تلفی کا دن ثابت ہوا۔ پولیس ایکشن میں اصل نشانہ حیدرآباد ریاست میں طاقتور موقف اختیار کر گئے کمیونسٹ تھے جبکہ رضاکاروں کے نام پر معصوم مسلمانوں کا قتل کیا گیا۔ مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی جس کے بعد 1949ء ویشال آندھرا تحریک نے جنم لیا جو آہستہ آہستہ اپنے مقصد میںکامیاب ہوئی اور تلگو زبان کی بول چال کے نام پر دونوں ریاستوں کا انضمام ہوا۔ 1953ء میں آندھرا ریاست کی کانگریس کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے کرنول کو عبوری اور حیدرآباد کو مستقل ریاست قرار دیتے ہوئے اپنا حق جتانا شروع کردیا لیکن 1952ء ہی میں غیرملکی واپس جاؤ کی تحریک نے تلنگانہ میں جنم لیا تھا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے 1953ء میں نہرو حکومت نے فضل علی کمیشن کو قائم کیا جس نے تلنگانہ سے ہورہی ناانصافیوں اور تلنگانہ عوام کی حقیقی حالات کو پیش کیا لیکن آندھرائی قیادت نے جن کے دہلی میں بہترین تعلقات پائے جاتے تھے۔ نہرو تک پہنچ کر فضل علی کمیشن کی سفارشات کو رکوا دیا اور یکم ؍ نومبر 1956ء کو نہرو نے دونوں ریاستوں کو ضم کرنے کا اعلان کیا۔ یکم ؍ نومبر 1956ء تخریب کاری سیاست کیلئے بنیادی ثابت ہوا جوکہ تلنگانہ کے حق میں نہیں تھا تو پھر 17 ستمبر کو کس طرح یوم نجات کہا جاسکتا ہے۔ ان 60 سالہ متحدہ ریاست کے دور میں تلنگانہ سے ہوئی ناانصافیاں ہی اسکا واضح ثبوت ہے تو پھر یوم نجات منانے اور سرکاری تقاریب کا اہتمام کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کو تاریخ سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ تلنگانہ کیلئے 2 جون کے علاوہ کوئی اور دن یوم نجات نہیں ہوسکتا۔
