بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں امن و ضبط کی صورتحال ابتر، ظہیرآباد میں افطار پارٹی سے خطاب
ظہیرآباد۔ ریاست کی برسر اقتدار ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے کل شام یہاں فرینڈس گارڈن فنکشن ہال میں دعوت افطار و طعام کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ریاستی وزیر خزانہ و صحت عامہ ٹی ہریش راؤ، رکن پارلیمنٹ ظہیرآبد بی بی پاٹل، منجولا شری جئے پال ریڈی صدر نشین ضلع پریشد، ایرولا سری نواس صدر نشین ایس سی ایس ٹی کارپوریشن، محمد فاروق حسین ایم ایل سی، ایم شیو کمار ڈی سی ایم ایس چیرمین، اوما کانت پاٹل سی ڈی سی چیرمین اور دیگر کے بشمول ضلع کلکٹر ہنمنت راؤ، اڈیشنل کلکٹر راجو شی شاہ اور دوسرے شریک تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ ریاست تلنگانہ ملک کی وہ واحد ریاست ہے جہاں اہم تہواریں سرکاری سطح پر منائی جاتی ہیں۔ انہوں نے سابق ایم ایل سی و سابق ریاستی جنرل سکریٹری ٹی آر ایس محمد فرید الدین مرحوم کی کمی کو شدت سے محسوس کیا اور کہا کہ محمد فرید الدین ماہ رمضان المبارک میں بصد احترام دعوت افطار و طعام کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ انہوں نے ظہیر آباد میں حج ہاوز کی تعمیر کے لئے 50 لاکھ روپے اور مسلم شادی خانہ کی تعمیر کے لئے بھی 50 لاکھ روپے کی منظوری کا اعلان کیا اور قبرستان و شادی خانہ کی اراضی کی نشاندہی کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے پرزور الفاظ میں کہا کہ ریاست تلنگانہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں فرقہ وارانہ ماحول کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں جبکہ امن و ضبط کی صورتحال بگڑچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کو پسند نہیں کرتی۔ ریاست ہر طبقہ کی مساویانہ ترقی کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے مسلمانوںکو رمضان المبارک کی مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر دیگر قائدین صدر ٹاؤن ٹی آر ایس ظہیرآباد سید محی الدین، شیخ فرید رکن ریلوے مشاورتی بورڈ، محمد تنویر ریاستی یوتھ لیڈر و دیگر موجود تھے۔ بعد ازاں ریاستی وزیر اور دیگر قائدین میونسپل کونسل میٹنگ ہال میں منعقدہ جائزہ اجلاس میں شرکت کی۔ قبل ازیں وزیر خزانہ و صحت عامہ ٹی ہریش راؤ نے کل شام یہاں منعقدہ دلت بندھو پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے دلتوں کو معاشی طور پر مستحکم کرنا دلت بندھو اسکیم کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مرکزی حکومت نے اپنے بجٹ میں ایس سی، ایس ٹی طبقات کی فلاح و بہبود کے لئے بجٹ میں صرف 12 ہزار 821 کروڑ روپے مختص کئے ہیں جبکہ ملک کی چھوٹی ریاست تلنگانہ کے دلتوں کے لئے 47 ہزار 350 کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ مرکزی حکومت نے ایس سی ایس ٹی طبقات کے لئے کل بجٹ کا 0.33 فیصد مختص کیا ہے جبکہ حکومت تلنگانہ نے اپنے کل بجٹ کا 18.43 فیصد مختص کیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت ملک کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے عملی اقدامات کرنے کے بجائے مذہبی منافرت پھیلانے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کررہی ہیں۔ کبھی حجاب پر پابندی تو کبھی حلال گوشت کو فروخت کرنے کی پابندی عائد کرنے کی بات کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری کی جارہی ہے۔ انہوں نے بنڈی سنجے کے بشمول دیگر بی جے پی قائدین کی جانب سے ریاست کے پرامن ماحول کو مکدر کرنے کے اقدامات کی مذمت بھی کی۔ انہوں نے حلقہ اسمبلی ظہیرآباد کے دلتوں کو یقین دلایا کہ اس اسکیم کا آغاز اگرچہ کہ ابتدائی طور پر مگڑم پلی کے موضع گڈگیار پلی کے دلتوں کو اس اسکیم تحت استفادہ کا موقع فراہم کیا گیا ہے جبکہ دیگر منڈلوں کے دلتوں کو اس اسکیم سے مستفید ہونے کا بتدریج موقع فراہم کیا جائے گا۔ قبل ازیں رکن پارلیمنٹ بی بی پاٹل، رکن اسمبلی کے مانک راؤ نے بھی خطاب کیا۔ بعد ازاں ریاستی وزیر خزانہ و صحت عامہ ٹی ہریش راؤ نے 21 مہیندرا اینڈ مہیندرا کے منی ٹرکس، 6 اشوک لی لینڈ منی ٹرکس اور 9 ٹریکٹرس کو استفادہ کنندگان میں تقسیم کئے۔ دلت بندھو پروگرام سے قبل ریاست وزیر نے ایس سی ایس ٹی اور بی سی کمیونٹی ہال کی تعمیر کے لئے سنگ بنیاد رکھنے کے علاوہ شیٹکار فنکشن ہال میں محکمہ پولیس کی زیر نگرانی رکھے گئے کوچنگ سنٹر کا افتتاح بھی کیا۔