سنگاریڈی میں پرجا سنگرام یاترا سے بنڈی سنجئے کا خطاب، 17 ستمبر کو یوم آزادی تلنگانہ منانے کا مطالبہ
سنگاریڈی ۔مسٹر بنڈی سنجئے ایم پی و ریاستی صدر بی جے پی کی پرجا سنگرام یاترا سنگاریڈی کے مختلف علاقوں سے ہوکر نزد مجسمہ امبیڈکر پہنچی جہاںپر جلسہ عام منعقد ہوا جس کو مخاطب کرتے ہوے بنڈی سنجئے ریاستی صدر بی جے پی نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی اقتدار میں آنے پر اتر پردیش کے خطوط پر تلنگانہ میں بھی آبادی پر کنٹرول والا قانون نافذ کرینگے۔ ٹی آر ایس حکومت سے 17 ستمبر کو یوم آزادی تلنگانہ کا سرکاری طور اہتمام کرنے کا مطالبہ کرتے ہوے کہا کہ بی جے پی اقتدار پر فائض ہوتے ہی 17 ستمبر تقریب کا سرکاری طور پر انعقاد کریگی۔ 17 ستمبر کو نرمل میں جلسہ عام منعقد ہوگا جس میں امیت شاہ مرکزی وزیر داخلہ شرکت کریں گے۔ تلنگانہ میں بی جے پی اقتدار میں آنے پر ایس ٹی طبقہ کو ان کی آبادی کے تناسب سے تحفظات فراہم کریگی۔ مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات بی سی کوٹہ میں دینے سے بی سی طبقہ سے نا انصافی ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے جی ایچ ایم سی انتخابات میں 30 سے زائد نشسستوں پر بی سی طبقہ کو نقصان ہوا ہے۔ بنڈی سنجئے نے کہا کہ تلنگانہ کے تمام ترقیاتی کام اور فلاحی اسکیمات مرکزی حکومت کے مرہون منت ہے۔ مرکزی حکومت کی اسکیمات پر کے سی آر اپنا نام لگا رہے ہیں۔ ضلع سنگاریڈی کو منظورہ نمز کے لیے حکومت حصول اراضی میں ناکام ہے جس کی وجہ سے صنعتوںکے قیام میں تاخیر ہو رہی ہے اور نوجوان روزگار سے محروم ہے۔ مرکزی حکومت نے ضلع سنگاریڈی میں قومی شاہراہوں کی تعمیر کے لیے 4202 کروڑ’ قومی ہیلت مشن کے لیے دو کروڑ’ دیہی علاقوں کی ترقی کے لیے 1060 کروڑ’ بلدیات کو 104 کروڑ’ 48141 افراد کو مفت گھریلو گیس کنکشن فراہم کئے گئے۔ تیجسوی سوریہ قومی صدر بھارتیہ جنتا یوا مورچہ نے مخاطب کرتے ہوے کہا کہ تلنگانہ میں کسی سیاسی جماعت کی حکومت نھیں ہے بلکہ کے سی آر لاندان کے چار فرد ریاست پر حکومت کر رہے ہیں اور اپنے من مانی فیصلوں سے ریاست کو تباہ کر رہے ہیں۔ رگھونندن راو ایم ایل اے دوباک نے کہا کہ عوامی مسائل پر بی جے پی بیباکانہ آواز بلند کرتی رہیگی اور ٹی آر ایس کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے کا سوال ہی پیدا نھیں ہوتا۔ اس موقع پر بابو موہن’ وجئے پال ریڈی’ سنگپا’ نریندر ریڈی’ راجیشور دیشپانڈے’ وشنووردھن ریڈی’ جگن’ شیکھر اور دیگر قائدین موجود تھے۔
