تلنگانہ میں فنڈز کی قلت، کئی فلاحی اسکیمات پر عمل آوری روک دی گئی

   

Ferty9 Clinic

انتخابی فائدہ کیلئے نئی اسکیمات کا اعلان، اسکالر شپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ کی عدم اجرائی سے لاکھوں طلبہ پریشان

حیدرآباد۔/23 جولائی، ( سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات کے پیش نظر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ مختلف طبقات کیلئے نئی اسکیمات کی منصوبہ بندی کررہے ہیں اور موجودہ اسکیمات کی امدادی رقم میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا لیکن ریاست کو فنڈز کی قلت کا سامنا ہے۔ جس کے نتیجہ میں نئی اسکیمات پر عمل آوری حکومت کیلئے چیلنج بن سکتی ہے۔ کے سی آر نے ریاست میں اقتدار کی ہیٹ ٹرک کیلئے فلاحی اسکیمات پر توجہ مرکوز کی ہے اور وہ ایسے طبقات اور شعبہ جات کیلئے نئے اعلانات کا منصوبہ بنارہے ہیں جن کیلئے ابھی تک کسی اسکیم کا اعلان نہیں کیا گیا۔ عہدیداروں کا ماننا ہے کہ نئی اسکیمات تو کجا موجودہ اسکیمات کیلئے فنڈز کی فراہمی دشوارکن بن چکی ہے اور کئی موجودہ اسکیمات پر گذشتہ تین برسوں سے عمل آوری مسدود ہوچکی ہے۔ الیکشن میں کامیابی کیلئے نئی اسکیمات کا فیصلہ محض انتخابی حربہ ثابت ہوگا اور عمل آوری کیلئے فنڈز کا انتظام کرنا حکومت کیلئے ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ کئی اسکیمات کے استفادہ کنندگان امدادی رقومات سے محروم ہیں۔ طلبہ کیلئے فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایا جات 3 ہزار کروڑ سے زائد ہیں لیکن آج تک بقایا جات کی اجرائی میں حکومت نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اسکالر شپ کے علاوہ کسانوں کیلئے رعیتو بندھو اسکیم کی امدادی رقم کے معاملہ میں طلبہ اور کسانوں کو مایوسی ہوئی ہے۔ حکومت رعیتو بندھو کی رقم مرحلہ وار طور پر جاری کررہی ہے اور ہزاروں کسان امدادی رقم سے محروم ہیں۔ طلبہ کیلئے اسکالر شپ، فیس ری ایمبرسمنٹ کے علاوہ اوورسیز اسکالر شپ کے بقایا جات گذشتہ تین برسوں سے جاری نہیں کئے گئے۔ دلتوں کیلئے10 لاکھ روپئے کی امدادی اسکیم دلت بندھو کے دوسرے مرحلہ کا آغاز ہوچکا ہے لیکن فنڈز کی کمی کے باعث امدادی رقم دلتوں کے کھاتہ میں منتقل نہیں کی جاسکی۔ مکانات کی تعمیر کیلئے امداد کی فراہمی سے متعلق گروہا لکشمی اسکیم فنڈز کی کمی کے نتیجہ میں محض کاغذ تک محدود ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایا جات کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں کالجس کے انتظامیہ نے ہزاروں طلبہ کے سرٹیفکیٹس کو روک دیا ہے جس کے نتیجہ میں طلبہ کو اپنے طور پر فیس ادا کرنی پڑ رہی ہے یا پھر انہیں اعلیٰ تعلیم سے محروم ہونا پڑے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ دلت بندھو اور گروہا لکشمی اسکیم کے استفادہ کنندگان کے انتخاب کو روک دیا گیا ہے۔ دلت بندھو اسکیم کے تحت 1.30 لاکھ دلت خاندان امداد کے منتظر ہیں اور ہر اسمبلی حلقہ میں 1100 خاندانوں کا انتخاب کیا جانا ہے۔ کابینہ نے مارچ میں دونوں اسکیمات کو منظوری دی جس کے لئے حکومت نے 400 کروڑ کا اعلان کیا لیکن ابھی تک فنڈ جاری نہیں ہوئے۔ اسی طرح آسرا پنشن کے استفادہ کنندگان میں بیشتر کو گذشتہ تین ماہ سے پنشن کا انتظار ہے۔ معذورین کے پنشن میں ایک ہزار روپئے کا اضافہ کرتے ہوئے چیف منسٹر نے انتخابی فیصلہ کرلیا لیکن دیگر زمرہ جات کے آسرا پنشن استفادہ کنندگان ہر ماہ باقاعدگی سے پنشن سے محروم ہیں۔