بی آر ایس قائدین پر شبہات، عہدیداروں سے بات چیت کے افشاء پر وزیر مال کی برہمی، سخت کارروائی کا انتباہ
حیدرآباد 10 فروری (سیاست نیوز) وزیر مال پی سرینواس ریڈی نے سنسنی خیز ریمارک کیاکہ تلنگانہ میں آج بھی فون ٹیاپنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ بی آر ایس قائدین پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے سرینواس ریڈی نے کہاکہ آج بھی فون ٹیاپنگ کے ذریعہ سرکاری عہدیداروں سے کی گئی بات چیت کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ سرینواس ریڈی نے آج کھمم ضلع میں مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ عہدیداروں کے ساتھ کی جانے والی بات چیت کا بیرونی افراد کو انکشاف ہورہا ہے جس پر حکومت کافی سنجیدہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ عہدیداروں اور ملازمین کی بات چیت کے افشاء معاملہ کی جامع تحقیقات کی جائیں گی اور ٹیاپنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سرینواس ریڈی نے کہاکہ فون ٹیاپنگ کے لئے آلات کی خریدی کے بارے میں حکومت جانچ کررہی ہے۔ مکمل جانچ کے بعد جو بھی قصوروار پائے جائیں گے اُن کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس دور حکومت میں فون ٹیاپنگ کی گئی اور آج بھی یہ جاری ہے، اِس بارے میں کئی افراد نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے۔ آج بھی بعض افراد اِس جرم میں ملوث ہیں۔ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور فون ٹیاپنگ کے لئے کب اور کہاں سے آلات حاصل کئے گئے، اُسے بے نقاب کیا جائے گا۔ قانون اپنے طور پر کارروائی کرے گا۔ سرینواس ریڈی نے کہاکہ سرکاری ملازمین سے ووٹ کی اپیل کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور اُنھوں نے کانگریس پارٹی کے نمائندہ کی حیثیت سے ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ سرینواس ریڈی نے بلدی انتخابات میں 80 فیصد سے زائد نشستوں پر کانگریس کی کامیابی کا دعویٰ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ 116 میونسپلٹیز اور 7 کارپوریشنوں کی انتخابی مہم میں کانگریس کو سبقت حاصل رہی ہے۔ گزشتہ 2 برسوں میں حکومت نے عوام سے کئے گئے ہر وعدے کی تکمیل کی ہے۔ حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پر 80 فیصد سے زائد نشستوں پر کانگریس کی کامیابی یقینی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس کی لہر سے بوکھلاہٹ کا شکار اپوزیشن قائدین حکومت کے خلاف الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ جوبلی ہلز ضمنی چناؤ میں بی آر ایس اور بی جے پی کا جو حشر ہوا، وہی نتیجہ بلدی انتخابات میں دہرایا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ میں کانگریس برسر اقتدار آنے تک ریاست کا قرض 8.19 لاکھ کروڑ تک پہونچ چکا تھا۔ حکومت ہر ماہ 6300 کروڑ قرض کی ادائیگی کررہی ہے۔ اِس کے علاوہ فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہیں۔ ریاست بھر میں 4.5 لاکھ اندراماں ہاؤزنگ کے تحت مکانات کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اپریل میں اندراماں ہاؤزنگ کے دوسرے مرحلہ کا آغاز ہوگا۔1