ٹی آر ایس کا متبادل صرف کانگریس ، نائب صدر ڈاکٹر ملو روی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 3 ۔ جولائی (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کے نائب صدر ڈاکٹر ملو روی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی تلنگانہ میں قدم جمانے کے لئے دیگر پارٹیوں کے قائدین پر انحصار کر رہی ہے ۔ مختلف قائدین کی بی جے پی میں شمولیت کے بارے میں پروپگنڈہ کرتے ہوئے عوام میں الجھن پیدا کی جارہی ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ملو روی نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے پاس قائدین نہیں ہیں لہذا کانگریس قائدین کو انحراف کی ترغیب دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور حالیہ لوک سبھا انتخابات میں اس کی کامیابی محض اتفاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کے سی آر حکومت پر وعدوں کی تکمیل کیلئے دباؤ بنانے میں ناکام بی جے پی دیگر پارٹیوں سے انحراف پر توجہ مرکوز کرچکی ہے۔ عوامی مسائل سے بی جے پی قائدین کو کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ وہ صرف اور صرف انحراف کے ذریعہ پارٹی قیادت کو خود کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ تلنگانہ میں بی جے پی برسر اقتدار ٹی آر ایس کا متبادل بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں یہ طاقت نہیں کہ وہ ٹی آر ایس کا متبادل بن سکے۔ صرف کانگریس پارٹی ٹی آر ایس کا متبادل ہے ۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ پارٹی کے سینئر قائدین بی جے پی میں شامل نہیں ہوں گے۔ جنگلاتی اراضی پر جاری تنازعہ کی یکسوئی کیلئے چیف منسٹر سے جائزہ اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس قائد نے کہا کہ قبائلی کسانوں کو اراضی سے محروم کرنے کی کوششوں کے سبب، یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ قبائلی کسان کئی برسوں سے جنگلاتی اراضی پر کاشت کر رہے ہیں اور یہی ان کے لئے واحد ذریعہ ہے۔ 2006 ء میں یو پی اے حکومت نے قانون سازی کے ذریعہ ڈسمبر 2005 ء تک کاشت کرنے والے قبائلی کسانوں کو پٹہ جات الاٹ کئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت اراضی واپس لیتے ہوئے شجر کاری کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کا یہ تنازعہ کئی اضلاع میں پھیل چکا ہے اور فاریسٹ عہدیداروں پر حملوں کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر کو چاہئے کہ وہ فوری جائزہ اجلاس طلب کریں اور قبائلی کسانوں کے ساتھ انصاف کیا جائے ۔
