تلنگانہ میں لاک ڈاؤن کے باوجود کوئی غریب بھوکا نہیں رہے گا

,

   

Ferty9 Clinic

محکمہ سیول سپلائز کو 25,000کروڑ روپئے کی اجرائی ، غریبوں کو 12 کیلو مفت چاول یا آٹا اور نقد رقم کی فراہمی : کے سی آر

۔ کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 70
۔ 25 ہزار افراد کو احتیاطاً الگ رہنے کی ہدایت
احتیاط کے معاملے میں ہندوستان نے امریکہ
کو پیچھے چھوڑ دیا ،چیف منسٹر کا اظہار ِ اطمینان

حیدرآباد۔29مارچ(سیاست نیوز) ریاست میں کورونا کے متاثرین کی تعداد 70ہوچکی ہے اور تلنگانہ میں 25ہزار 937 افرا د کو معاشرتی فاصلہ کیلئے قرنطینہ میں رہنے کا پابند کیا گیا ہے۔چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے آج پریس کانفرنس کے دوران یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں 11مریضوں کو ڈسچارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ ان کا علاج مکمل ہوچکا ہے ڈاکٹرس سے مشاورت کے بعدانہیں 30 مارچ کو ڈسچارج کردیا جائے گا اور انہیں آئندہ 14 یوم کیلئے قرنطینہ میں رہنے کا پابند کیا جائے گا۔ کے چندر شیکھر راؤ نے توقع ظاہر کی کہ ریاست تلنگانہ میں 7اپریل سے مریضوں کی تعداد میں گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے قرنطینہ کی مدت مکمل کرنے والے مشتبہ مریضوں کو مرحلہ وار انداز میں چھوڑنے اور ان پر عائد کردہ پابندیوں کو ختم کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ حکومت نے محکمہ سیول سپلائز کو 25,000 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں جو کہ ایک تاریخی فیصلہ ہے کیونکہ حکومت نے عہدیدارو ںکو اس بات کا پابند کیا ہے کہ ریاست میں کوئی بھی بھوکا یا پیاسا نہیں سونا چاہئے ۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست میں موجود دیگر ریاستوں کے افراد سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی پریشانی میں مبتلاء نہ ہوں کیونکہ حکومت تلنگانہ نے انہیں بھی 12کیلو چاول اور اگر کوئی روٹی کھانے والا ہے تو اس کے لئے آٹا فراہم کرنے کے علاوہ 500 روپئے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ کورونا وائرس کا کوئی علاج موجود نہیں ہے لیکن خود احتیاط کرتے ہوئے اس مرض سے بچا جاسکتا ہے اور اس مرض کو قریب آنے سے روکا جاسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت ہند کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کی بھی ستائش کی اور کہا کہ ملک میں ہندستانی ریلوے کی جانب سے ٹرین کے کوچ کو عارضی دواخانوں میں تبدیل کیا جا رہاہے جو کہ ایک کارنامہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ نے اس کے متعلق سوچا بھی نہیں تھا لیکن ہندستان میں حالات سے مقابلہ کرنے کیلئے ہم تیزی سے تیاری کر رہے ہیں۔چیف منسٹر تلنگانہ نے کہا کہ ریاستی حکومت ہو یا مرکزی حکومت ہو دونوں کے پاس اتنی طبی سہولیات موجود نہیں ہیں کہ اگریہ وبائی مرض پھیل جاتا ہے تو ایسی صورت میں مریضوں کو وینٹیلیٹرس فراہم کئے جاسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ جن لوگوں کو قرنطینہ میں رہنے کا پابند کیا گیا ہے ان کی نگرانی کیلئے 5ہزار 746 ٹیمیں متحرک ہیں اور ان کی مکمل نگرانی کی جا رہی ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ حکومت کو اس بات کی توقع ہے کہ ریاست میں آئندہ ایک ہفتہ کے بعد سے مریضوں کی تعداد میں گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کا امکان ہے کیونکہ حکومت نے اب تمام راستوں کو مسدود کردیا ہے اور جو لوگ گھروں میں ہیں وہ اگر گھروں میں رہیں تو مریضوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ انہوںنے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کی پابندی کرنے کی متعدد اپیل کی جا رہی ہے اور اشیائے ضروریہ کی دکانات کو کھلا رکھنے کے اقدامات اسی لئے کئے جا رہے ہیں کیونکہ ریاست میں کسی کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔قبل ازیں چیف منسٹر نے ریاست تلنگانہ کے تمام ضلع کلکٹرس کے ہمراہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ اضلاع کے حالات سے واقفیت حاصل کی۔ انہو ںنے بتایا کہ شہری علاقوں سے زیادہ بہتر انداز میں دیہی علاقوں کے عوام لاک ڈاؤن کی پابندی کر رہے ہیں اور اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ سماجی و معاشرتی فاصلہ برقرار رکھا جائے ۔ انہو ں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خود کو گھروں میں کچھ عرصہ کے لئے محدود کرتے ہوئے اس بیماری سے بچ سکتے ہیں ۔ کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ہندستان نے جو حکمت عملی تیار کی ہے وہ بڑی حد تک کامیاب رہی ہے اور توقع ہے کہ حالات جلد بہتر ہوجائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں پہلے صحتیاب ہونے والے شخص سے وزیر اعظم نے من کی بات کے دوران بات کی اور بعد ازاں ان سے رابطہ کرتے ہوئے گاندھی ہاسپٹل میں موجود سہولتوں کی ستائش کی ۔انہو ںنے کسانوں کو تیقن دیا کہ ان کی مکمل فصل حکومت کی جانب سے خریدی جائے گی انہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔