موسمی تبدیلی سے کھپت کم ، سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کا ادعا
حیدرآباد۔ ریاست تلنگانہ میں لاک ڈاؤن کے دوران برقی طلب میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور کہا جارہا ہے کہ مجموعی اعتبار سے ریاست بھر میں گذشتہ ماہ کے مقابلہ طلب میں کافی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ۔ گذشتہ ماہ کے دوران ریاست میں برقی کھپت 13ہزار میگا واٹ ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ جاریہ ماہ لاک ڈاؤن کے دوران برقی کھپت 6908 میگا واٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ کے عہدیداروں نے بتایا کہ جاریہ ماہ کے دوران موسمی تبدیلی اور گرما کی شدت میں کمی اور لاک ڈاؤن کے سبب ماہ مئی کے دوران برقی کھپت میں کمی ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ عام طور پر ماہ مئی کے دوران موسم گرما کے عروج پر ہونے کے سبب صرف مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں 3300میگا واٹ برقی کی طلب ریکارڈ کی جاتی ہے لیکن اب جبکہ ریاست میں لاک ڈاؤن اور شہر حیدرآباد کے درجہ حرارت میں ریکارڈ کی جانے والی کمی کے سبب برقی کھپت 2400 میگا واٹ ریکارڈ کی جارہی ہے۔مسٹر ڈی پربھاکر راؤ صدرنشین ٹرانسکو نے بتایا کہ ریاست میں برقی طلب میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے ریاست میں 13000 میگا واٹ برقی سربراہی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے گئے تھے لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے برقی طلب میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ صرف 7000میگا واٹ تک محدود ہوچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برقی طلب میں ہونے والی کمی کی وجہ صرف لاک ڈاؤن نہیں ہے بلکہ اس کی دیگر وجوہات بھی ہیں جن میں کاشتکاری کے موسم کا اختتام اور موسمی تبدیلی بھی شامل ہے۔ محکمہ برقی کے عہدیداروں کے مطابق برقی طلب میں عام طور پر ڈسمبر سے اضافہ ہونے لگتا ہے اور یہ سلسلہ ماہ مئی کے اختتام تک جاری رہتا ہے لیکن اس مرتبہ ماہ فروری کے دوران برقی طلب 13 ہزار 452 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی اور ماہ مارچ کے اختتام تک کھپت 13ہزار688 ریکارڈ کی گئی لیکن اپریل میں برقی طلب میں کمی ریکارڈ کی گئی اور کھپت 10ہزار85 میگا واٹ ریکارڈ کی گئی اور لاک ڈاؤن کے ساتھ ہی اس میں مزید گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ریاست کے بیشتر اضلاع میں درجہ حرارت میں کمی کے علاوہ پیداوار کے موسم کے اختتام کے سبب برقی کے استعمال میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے اور لاک ڈاؤن کے دوران تجارتی سرگرمیوں کے بند ہونابھی ایک اہم وجہ ہے۔