81.5 فیصد آپریشن سے زچگیاں ، شہری علاقوں میں خواتین کا موٹاپا ، سروے میں انکشاف
حیدرآباد :۔ ریاست کی آبادی میں مردوں کے بہ نسبت خواتین کی آبادی میں اضافہ ہونے کا نیشنل فیملی ہیلت سروے میں انکشاف ہوا ہے ۔ سال 2019-20 سروے میں اعلان کیا گیا ہے ۔ 2015-16 میں کرائے گئے سروے میں ریاست کی آبادی میں 1000 مرد ہو تو خواتین کی تعداد 1007 تھی جو اب بڑھ کر خواتین کی تعداد 1049 ہوگئی ہے ۔ شہری علاقوں میں خواتین کی تعداد 1015 ہے جب کہ دیہی علاقوں میں خواتین کی تعداد 1070 ہے ۔ حکومت کی جانب سے کئی مرتبہ انتباہ دینے کے باوجود خانگی و کارپوریٹ ہاسپٹلس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ آپریشن سے زچگی کے واقعات جوں کے توں برقرار ہے ۔ سروے میں بتایا گیا کہ 5 سال قبل ریاست آپریشن سے ہونے والی زچگیوں کا تناسب 57.7 فیصد تھا ۔ جو اب بڑھ کر 60.7 فیصد ہوگیا ہے ۔ جس میں شہری علاقوں کا تناسب 64.3 فیصد ہے اور دیہی علاقوں کا تناسب 58.4 فیصد ہے ۔ خانگی ہاسپٹلس میں 5 سال قبل آپریشن سے ہونے والی زچگیوں کا تناسب 74.5 فیصد تھا جو بڑھ کر 81.5 فیصد تک پہونچ گیا ہے ۔ سرکاری ہاسپٹلس میں 5 سال قبل آپریشن سے ہونے والے آپریشن کی تعداد 40.3 فیصد تھی اب بڑھ کر 44.5 فیصد ہوگئی ہے ۔ ریاست میں موٹاپا کے مسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ 15-49 سال عمر کی خواتین میں 5 سال قبل موٹاپا 28.6 فیصد تھا ۔ جو اب بڑھ کر 30.1 فیصد تک پہونچ گیا ہے ۔ شہری علاقوں میں یہ تناسب 41.7 فیصد ہے۔ دیہی علاقوں میں 23.8 فیصد ہے ۔ یہی عمر کے مردوں میں 5 سال قبل موٹاپا کا تناسب 24.2 فیصد تھا اب بڑھ کر 32.3 فیصد ہے ۔ شہری علاقوں میں مردوں کے موٹاپا کا تناسب 40.2 فیصد دیہی علاقوں میں 28.1 فیصد ہے ۔ ریاست میں نومولود کے اموات کی شرح گھٹی ہے ۔ 5 سال قبل 1000 بچوں میں 20 کی اموات ہوتی تھی جو اب گھٹ کر 16.8 فیصد تک پہونچ گئی ہے ۔۔
