رکن راجیہ سبھا سید ظفر اسلام کی خدمات ، بی آر ایس ، کانگریس اور مجلس کی خفیہ مفاہمت کا الزام
حیدرآباد ۔18۔ اگست (سیاست نیوز) بی جے پی نے تلنگانہ میں اقلیتی طبقات پر توجہ مبذول کرنے کیلئے پارٹی کے رکن راجیہ سبھا اور قومی ترجمان سید ظفر اسلام کی خدمات حاصل کی ہیں۔ سید ظفر اسلام اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی کی تیاری میں اہم رول ادا کریں گے۔ پارٹی نے پہلی مرتبہ اقلیتی رائے دہندوں پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ حلقہ جات میں کامیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔ پارٹی نے اقلیتی رائے دہندوں کے بارے میں جو سروے کیا ہے ، اس کے مطابق کئی حلقہ جات ایسے ہیں جہاں اگر 10 تا 20 فیصد اقلیتی رائے دہندے بی جے پی کی تائید کریں تو پارٹی کامیاب ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے غیر متنازعہ مسلم لیڈر سید ظفر اسلام کو تلنگانہ کے کئی اضلاع میں عوامی جلسوں سے خطاب کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ اقلیتی مورچہ کے قائدین کے ساتھ ظفر اسلام مسلمانوں کی مختلف تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ وہ یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ بی جے پی مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔ اسی دوران حیدرآباد کے دورہ پر آئے ہوئے بی جے پی قومی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں کے سی آر خاندان کی لوٹ جاری ہے اور خاندان کے اثاثہ جات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کرپشن کو برداشت نہیں کرے گی اور اسکام میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ظفر اسلام نے کہا کہ شراب اسکام کے معاملہ میں عام آدمی پارٹی قائد منیش سیسوڈیا کے علاوہ کے سی آر کی دختر کویتا بھی ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے معاملہ میں مرکزی حکومت کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کی خاندانی حکمرانی کو عوام میں بے نقاب کیاجائے گا ۔ سید ظفر اسلام نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس ، کانگریس اور مجلس نے بی جے پی کو اقتدار سے روکنے کیلئے درپردہ مفاہمت کرلی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مسلمان یہ جان چکے ہیں کہ کانگریس نے انہیں ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ بی جے پی دیگر طبقات کی طرح مسلمانوں کو فلاحی اسکیمات میں حصہ داری کے حق میں ہے۔
