تلنگانہ میں مسلم ووٹوں کو تقسیم سے بچانے کانگریس نے جارحانہ انتخابی مہم چلائی

   

کرناٹک ‘ کیرالا ‘ دہلی ‘ اترپردیش اور مہاراشٹرا کے مسلم قائدین کی آمد۔ کرناٹک میں متحدہ رائے دہی سے بی جے پی کی شکست کا حوالہ

حیدرآباد 29 نومبر ( سیاست نیوز ) ہر بار کے انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے مسلم ووٹرس کی تائید انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی جماعتیں انتخابات میں مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کی تگ و دو کرتی ہیں۔ بی جے پی ہمیشہ مسلم ووٹوں کو تقسیم کرتے ہوئے ان کی اہمیت گھٹانے اور اکثریتی ووٹ مجتمع کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کی حکمت عملی پر کام کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ریاست میں مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ تاہم کرناٹک میں ہوئے اسمبلی انتخابات سے مسلم ووٹوں کی تقسیم کا عمل رکنے لگا ہے ۔ کرناٹک میں سکیولر نام سے بھی متاثر ہوئے بغیر مسلمانوں نے ایک جٹ ہو کر کانگریس کے حق میں ووٹ دیا اور نتائج ساری دنیا نے دیکھ لئے کہ کس طرح سے وہاں فرقہ پرستوں کو منہ کی کھانی پڑی ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق کرناٹک میں 88 فیصد مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ دیا جس کے نتیجہ میں بی جے پی کو کراری شکست ہوئی ۔ اسی طرح اب تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں بھی مسلم ووٹوں کو تقسیم سے بچانے کیلئے کانگریس نے منظم انداز میں کام کیا ۔ مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم تلنگانہ میں بھی رکنی چاہئے تاکہ فرقہ پرستوں اور وعدوں سے انحراف کرنے والوں کو سبق سکھایا جاسکے ۔ کانگریس نے کرناٹک کے تجربہ کو سامنے رکھتے ہوئے کئی ریاستوں کے مسلم قائدین کو تلنگانہ کی انتخابی مہم میں جھونک دیا اور یہاں رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ۔ مختلف ریاستوں کے مسلم وزراء ‘ مسلم ارکان پارلیمنٹ اور مسلم ارکان اسمبلی نے تلنگانہ پہونچ کر کانگریس امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم چلائی ۔ کانگریس نے مسلم ووٹوں کو تقسیم سے بچانے کیلئے ساری اقلیتی طاقت جھونک دی تھی ۔ کانگریس کی مہم میں حصہ لینے والوں میں سابق وزیر خارجہ جناب سلمان خورشید ‘ رکن راجیہ سبھا جناب عمران پرتاپ گڑھی ‘ ناصر حسین رکن راجیہ سبھا و رکن کانگریس ورکنگ کمیٹی ‘ جناب شکیل احمد سی ایل پی لیڈر بہار ‘ کرناٹک کے وزراء محمد ضمیر احمد خان اور جناب رحیم خان ‘ دہلی کانگریس کے نائب صدر علی مہدی ‘ کرناٹک کے رکن اسمبلی ارشد رضوان ‘ گلبرگہ کی خاتون رکن اسمبلی و جناب قمر الاسلام سابق وزیر مرحوم کی اہلیہ محترمہ کنیز فاطمہ ‘ محترمہ شمع محمد کیرالا ‘ جناب بابا صدیقی مہاراشٹرا ‘ جناب ذیشان صدیقی رکن اسمبلی مہاراشٹرا ‘ محترمہ فوزیہ رعنا اترپردیش ‘ جناب فرحان اعظمی ‘ جناب سلیم احمد ‘ جناب نصیر احمد اور جناب منصور علی خان انچارج سکریٹری تلنگانہ کانگریس امور اور کئی دوسرے قائدین شامل رہے جنہوں نے مسلم رائے دہندوں تک پہونچ کر پوری شدت کے ساتھ انتخابی مہم چلائی اور کرناٹک کی مثال پیش کی جہاں مسلمانوں نے متحدہ طور پر ایک جماعت کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا تھا جس کے نتائج انتہائی مثبت رہے اور کانگریس کو کرناٹک میں زبردست کامیابی ملی ۔ کانگریس کی اس کامیابی نے جنوبی ہند میں بی جے پی کی واحد زیر اقتدار ریاست سے بھی اسے بیدخل کردیا اور اس کے اثرات آئندہ پارلیمانی انتخابات میں بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ مستحکم کانگریس اور کانگریس حکومتوں کے قیام سے بی جے پی کو آئندہ پارلیمانی انتخابات میں کراری شکست سے دوچار کرنے کا عملا آغاز ہوگا ۔ اسی حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کانگریس نے پارلیمانی انتخابات پر نظر رکھتے ہوئے ریاست میں بھی پوری طاقت اور جوش و خروش کے ساتھ انتخابی مہم چلائی اور وہ نتائج کے تعلق سے پرامید ہے ۔