اتم کمار ریڈی کا الزام، معاشی ماہرین کے ساتھ اجلاس طلب کرنے چیف منسٹر سے مطالبہ
حیدرآباد 30 مئی (سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی نے الزام عائد کیاکہ تلنگانہ معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کے سی آر حکومت کی غلط پالیسیوں کے نتیجہ میں آئندہ چند ماہ میں حکومت سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے موقف میں نہیں رہے گی۔ اتم کمار ریڈی سوریہ پیٹ ضلع کے حضورآباد اسمبلی حلقہ میں رچہ بنڈہ پروگرام کے تحت دسویں دن کسانوں سے ملاقات کررہے تھے۔ اُنھوں نے مختلف مواضعات کا دورہ کرتے ہوئے کسانوں کو ورنگل ڈیکلریشن کی تفصیلات سے واقف کرایا جس میں کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد قرض کی معافی اور دیگر مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہاکہ ٹی آر ایس حکومت کے پاس رعیتو بندھو کے تحت کسانوں کو امداد کے لئے بجٹ نہیں ہے کیوں کہ سرکاری خزانہ تقریباً خالی ہوچکا ہے۔ چیف منسٹر پر ریاست کی معاشی صورتحال کے بارے میں عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہاکہ ٹی آر ایس حکومت نے معاشی صورتحال اور آمدنی و خرچ کو برقرار رکھنے کے لئے درست پالیسی اختیار نہیں کی۔ چیف منسٹر گزشتہ 8 برسوں کے دوران تلنگانہ کو دولتمند ریاست ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن حقیقت میں ریاست کو قرض کے جال میں پھنسادیا ہے۔ سی اے جی کی رپورٹ میں ریاست کی معاشی ابتر صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے۔ 2021-22 ء میں سی اے جی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہاکہ ٹی آر ایس حکومت بجٹ میں گمراہ کن اعداد و شمار پیش کررہی ہے۔ ریاست کی آمدنی کو بڑھا چڑھاکر پیش کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت 52 ہزار کروڑ قرض حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن ریزرو بینک آف انڈیا نے اجازت نہیں دی۔ اُنھوں نے چیف منسٹر سے معاشی ماہرین کے ساتھ اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ ریاست کو معاشی بحران سے نکالا جاسکے۔ ر