مخالف حکومت ووٹ تقسیم کرنے کی حکمت عملی، بی ایل سنتوش اور اروند کے بیانات سے تقویت ، کانگریس کی طرف عوامی رجحان سے خوف
حیدرآباد ۔9۔اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی چناؤ کے شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی آئندہ حکومت کے بارے میں قیاس آرائیوں میں شدت پیدا ہوچکی ہے۔ سیاسی پارٹیاں اپنے امکانات تلاش کر رہی ہے تو دوسری طرف عوام اور سوشیل میڈیا کی سطح پر تلنگانہ کی آئندہ اسمبلی کے بارے میں مختلف اندازے قائم کئے جارہے ہیں۔ تازہ ترین سیاسی صورتحال میں اصل مقابلہ برسر اقتدار بی آر ایس اور مین اپوزیشن کانگریس کے درمیان ہے جبکہ بی جے پی مقابلہ کی دوڑ سے کافی پیچھے ہوچکی ہے ۔ کرناٹک اسمبلی نتائج تک صورتحال یہ تھی کہ تلنگانہ میں سہ رخی مقابلہ کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا لیکن کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی کے بعد ایک طرف تلنگانہ میں کانگریس کا گراف بہتر ہوا تو دوسری طرف بی جے پی کے ریاستی صدر کے طور پر بنڈی سنجے کی جگہ کشن ریڈی کے تقرر میں بی جے پی کیڈر کے حوصلوں کو پست کردیا ہے ۔ بعض سیاسی گوشوں کی جانب سے تلنگانہ میں معلق (ہنگ) اسمبلی کی پیش قیاسی کی جارہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معلق اسمبلی کی صورت میں حکومت تشکیل کون دے گا؟ کسی ایک پارٹی کیلئے حکومت تشکیل دینا ممکن نہیں ہوگا ، ایسے میں کانگریس کے بی آر ایس کے ساتھ اتحاد کے امکانات موہوم دکھائی دیتے ہیں۔ بی جے پی اور بی آر ایس حلقوں میں معلق اسمبلی کی صورت میں دونوں پارٹیوں میں اتحاد کے امکانات کو مسترد نہیں کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی آر ایس اور بی جے پی دونوں ایک زبان میں یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بھلے ہی معلق اسمبلی کیوں نہ ہو لیکن حکومت ہماری ہوگی۔ مبصرین کے مطابق معلق اسمبلی کا مطلب دیگر پارٹیوں سے ارکان اسمبلی کی خریدی یا پھر کسی پارٹی سے مفاہمت ہوگا۔ میڈیا کے بعض گوشوں میں یہ تاثر کیا جارہا ہے کہ معلق اسمبلی کی صورت میں بی آر ایس کے لئے تشکیل حکومت کے امکانات روشن ہوں گے ۔ صاف ظاہر ہے کہ بی آر ایس تشکیل حکومت کیلئے بی جے پی سے مفاہمت کرسکتی ہے، بشرطیکہ بی جے پی کے پاس درکار ارکان کی تعداد موجود ہو جو تشکیل حکومت میں مددگار ثابت ہوسکے۔ سابق میں دو مرتبہ بی آر ایس نے کانگریس کے ارکان اسمبلی کو خریدا تھا لیکن اس مرتبہ کانگریس سے انحراف آسان نہیں ہوگا۔ کانگریس پارٹی کو 10 سال کے وقفہ کے بعد تلنگانہ میں برسر اقتدار آنے کا یقین ہے لہذا کانگریس کے حلقوں میں معلق اسمبلی کے بجائے واضح اکثریت کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ دوسری طرف بی جے پی کے بعض سینئر قائدین کے بیانات معلق اسمبلی کی صورت میں بی آر ایس کے ساتھ اتحاد کی قیاس آرائیوں کو تقویت دے رہے ہیں۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش نے جمعہ کے دن پارٹی اجلاس میں یہ سنسنی خیز بیان دیا کہ تلنگانہ میں معلق اسمبلی تشکیل پائے گی۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ معلق اسمبلی کے باوجود حکومت بی جے پی کی ہوگی۔ بی جے پی کے اس اجلاس میں قومی صدر جے پی نڈا نے شرکت کی تھی۔ بی ایل سنتوش حالیہ عرصہ میں بی آر ایس کے چار ارکان اسمبلی کی خریدی معاملہ میں اہم ملزم ہیں ۔ بی آر ایس نے سی آئی ڈی کے ذریعہ اس معاملہ کی سرگرمی سے جانچ کی تھی لیکن اچانک تحقیقات برفدان کی نذر ہوچکی ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ بی ایل سنتوش کا بیان بی آر ایس اور بی جے پی میں امکانی مفاہمت کا واضح اشارہ ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند نے یہ کہتے ہوئے ہر کسی کو حیرت میں ڈال دیا کہ بی جے پی کو اسمبلی چناؤ میں چاہے 25 نشستیں کیوں نہ ملے حکومت اسی کی ہوگی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تشکیل حکومت کیلئے درکار 62 نشستوں کا انتظام بی جے پی کس طرح کرے گی۔ نشستیں بھلے ہی کتنی ملیں لیکن بی جے پی حکومت کی تشکیل کے دعوے کے پس پردہ دونوں پارٹیوں میں ماقبل نتائج مفاہمت کے اشارے صاف طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مفاہمت سے متعلق عوام میں پائے جانے والے خدشات کو غلط ثابت کرنے کیلئے وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعہ یہ بیان دیا گیا کہ بی آر ایس کے ساتھ مفاہمت نہیں ہوگی۔ نریندر مودی نے جس انداز میں بی آر ایس حکومت کو نشانہ بنایا ہے ، وہ دراصل عوام میں تاثر دینے کی کوشش ہے کہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی مخالف ہیں۔ گزشتہ 9 برسوں کے دوران لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی گواہ ہے کہ بی آر ایس نے ہر موڑ پر نریندر مودی حکومت کی تائید کی تھی۔ اب جبکہ کانگریس نے بی آر ایس اور بی جے پی کے خفیہ اتحاد کو بے نقاب کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے ، ایسے میں عوام کو گمراہ کرنے کیلئے دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف شدت سے تنقید کر رہی ہیں۔ تلنگانہ میں تاحال دو اسمبلی انتخابات ہوئے اور متحدہ آندھراپردیش میں بھی شائد کبھی معلق اسمبلی تشکیل پائی ہو۔ کانگریس کے مضبوط موقف کے ساتھ ہی منصوبہ بند طریقہ سے معلق اسمبلی کے اندیشے ظاہر کئے جارہے ہیں تاکہ عوام متحدہ طور پر کانگریس کی تائید سے گریز کریں اور مخالف حکومت ووٹ منقسم ہوجائیں تاکہ بی آر ایس کو اپنی حلیف بی جے پی کے ساتھ مل کر دوبارہ تشکیل حکومت کا موقع مل جائے ۔