تلنگانہ میں موسمی امراض میں اضافہ

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد ۔ 7 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : ریاست تلنگانہ میں موسمی امراض جیسے ڈینگو ، ملیریا ، چکون گنیا ، ٹائیفائیڈ اور اسہال دست میں اضافہ ہورہا ہے ۔ متعدی امراض اور پانی سے ہونے والے امراض سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں حیدرآباد اور نظام آباد کے دواخانوں اور دیگر چند اضلاع میں اضافہ ہورہا ہے ۔ عہدیداروں کے مطابق ڈینگو کسیس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔ فیور ہاسپٹل ، حیدرآباد میں جولائی میں ڈینگو کے 100 سے زائد کیسیس ریکارڈ کئے گئے ۔ عثمانیہ دواخانہ میں موسمی امراض سے متاثر آوٹ پیشنٹس اور ان پیشنٹس کی تعداد میں اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔ ہاسپٹل مینجمنٹس کے مطابق روزانہ تین تا چار ڈینگو کیسیس ریکارڈ کئے جارہے ہیں ۔ اضلاع کے لوگوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے عہدیداروں کی جانب سے ضروری احتیاطی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے مچھروں کی کثرت ہورہی ہے اور امراض پیدا ہورہے ہیں انہوں نے یہ بھی شکایت کی کہ بلدی عملہ پابندی کے ساتھ کچرے کی نکاسی نہیں کررہا ہے ۔ ہیلت عہدیداروں کے مطابق ریاست میں اس سال 608 ڈینگو ، 508 ملیریا اور چکون گنیا کے 9 کیسیس کی اطلاعات ہیں ۔ ہیلت ڈپارٹمنٹ کے ایڈیشنل ڈائرکٹر ڈاکٹر امر سنگھ نائیک نے کہا کہ گرام پنچایت اور بلدیات سے دیہی علاقوں میں صاف صفائی کے لیے خصوصی مہم چلانے میں حصہ لینے کے لیے کہا گیا ہے ، ریاست بھر میں گھر گھر فیور سروے کا کام بھی شروع کیا گیا ہے ۔ ماہرین صحت کے مطابق موسم بارش کے دوران موسمی تبدیلی کے باعث صحت پر اس کے اثرات بہت عام بات ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بھی اس سلسلہ میں ذمہ داری لینی چاہئے اور اپنے ماحول کو صاف ستھرا بنائے رکھنے کے لیے آگے آنا چاہئے اور انہیں کھلے مقامات پر کچہرا ڈال کر بلدی عہدیداروں پر الزام تراشی کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے ۔ انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس موسم کے دوران پانی کو اُبال کر استعمال کریں اور چرڈنڈی کھانے سے گریز کریں جس سے اسہال دست کا مرض لاحق ہوسکتا ہے ۔ مانسون کے موسم کے پیش نظر محکمہ صحت کے عہدیداروں نے ڈی ایم ایچ اوز کو ہدایت دی کہ ریاست بھر میں گھر گھر فیور سروے منعقد کریں ۔۔