تلنگانہ میں میڈیسن کی نشستوں میں مقامی طلبہ سے ناانصافی

   

یونیورسٹی کی خانگی کالجس سے ملی بھگت، وائس چانسلر اپنے موقف پر قائم

حیدرآباد: تلنگانہ میں میڈیسن کی نشستوں میں مقامی طلبہ کے بجائے آندھرائی طلبہ کو داخلوں سے متعلق تنازعہ کے درمیان اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی آف ہیلت سائنسیس نے خانگی کالجس کے انتظامیہ سے ملی بھگت کے ذریعہ یہ قدم اٹھایا ہے ۔ خانگی کالجس کو بھاری فیس کی شکل میں فائدہ پہنچانے کیلئے کونسلنگ میں آندھرائی طلبہ کو نشستیں الاٹ کی گئی ۔ کنوینر کوٹہ کی نشستوں کو مینجمنٹ کوٹہ میں تبدیل کردیا گیا ۔ کنوینر کوٹہ کے تحت کالج کو ہر نشست کیلئے 60,000 روپئے فیس حاصل ہوتی ہے جبکہ اسے زمرہ سی یا پھر مینجمنٹ کوٹہ میں تبدیل کرنے سے کالجس کو کم از کم ایک کروڑ روپئے کی فیس حاصل ہوسکتی ہے۔ بعض کالجس ایک کروڑ سے زائد وصول کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر بی کروناکر ریڈی نے کونسلنگ کے مرحلہ دوم کے دوران خانگی کالجس سے نشستیں بلاک کرنے کے خلاف انتباہ دیا تھا لیکن کونسلنگ میں خامیوں کو دور کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ یونیورسٹی کے قواعد کے نتیجہ میں خانگی کالجس کو فائدہ پہنچا۔ آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے رینکرس جنہوں نے آندھرا میڈیکل کالج وشاکھاپٹنم ، گنٹور میڈیکل کالج ، کاکیناڈا میڈیکل ، کرنول میڈیکل کالج اور تروپتی میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کرلیا تھا ۔ انہوں نے آخری مرحلہ میں تلنگانہ کی کونسلنگ میں حصہ لیا جس کے بعد انہیں گاندھی ، عثمانیہ اور کاکتیہ میڈیکل کالجس میں داخلہ لیا گیا۔ گورنر ٹی سوندرا راجن نے کونسلنگ کے بارے میں یونیورسٹی سے رپورٹ طلب کی ہے لیکن وائس چانسلر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کونسلنگ کے طریقہ کار کو درست قرار دیا ۔