آندھرائی طلبہ کو داخلوں پر تنازعہ، وائس چانسلر کی رپورٹ حکومت کو پیش
حیدرآباد: تلنگانہ میں میڈیسن کی نشستوں پر آندھرائی طلبہ کے داخلوں کا تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ 100 سے زائد آندھرائی طلبہ کو تلنگانہ میں داخلہ دیا گیا جس کے نتیجہ میں مقامی طلبہ سے ناانصافی ہوئی ہے ۔ تلنگانہ کے میڈیکل کالجس میں آندھرائی طلبہ کے داخلہ کے خلاف عوام میں ناراضگی کو دیکھتے ہوئے گورنر ٹی سوندرا راجن نے یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے مداخلت کی اور رپورٹ طلب کی ہیں۔ کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی آف ہیلت سائنسیس کی دوسرے مرحلہ کی کونسلنگ میں آندھرائی طلبہ کو نشستیں الاٹ کی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلے مرحلہ میں 40 آندھرائی طلبہ کو داخلہ دیا گیا جبکہ تیسرے اور باقی مراحل میں دیگر طلبہ کو ایم بی بی ایس کی نشستیں الاٹ کی گئیں۔ 15 فیصد غیر محفوظ کوٹے کے علاوہ بی سی ڈی زمرہ جات میں تلنگانہ کے طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایس سی اور ایس ٹی زمرہ جات کے علاوہ اے ، بی ، سی اور ای زمرہ جات میں پسماندہ طبقات کے طلبہ سے ناانصافی ہوئی ہے۔ آندھراپردیش میں 85 فیصد مقامی کوٹہ میں نشستوں سے محروم ہونے والے طلبہ تلنگانہ میں 15 فیصد غیر محفوظ زمرہ میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ قواعد کے مطابق 15 فیصد غیر محفوظ نشستوں میں کسی بھی علاقہ سے تعلق رکھنے والے میرٹ طلبہ کو داخلہ دیا جاسکتا ہے جبکہ تلنگانہ میں ایسے آندھرائی طلبہ کو داخلہ دیا گیا جن کا رینک کافی کم ہے۔ حکومت کے اہم کالجس گاندھی اور عثمانیہ میں غیر مقامی طلبہ کے داخلہ سے مقامی طلبہ میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے ابھی تک اس مسئلہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے ۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ وائس چانسلر ہیلت یونیورسٹی نے داخلوں کو درست قرار دیتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کی ہے۔