397 کروڑ معاوضہ ادا کیا گیا، چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ کا اظہار خوشنودی
حیدرآباد۔ 29 مارچ (سیاست نیوز) نیشنل لیگل سرویسیس اتھاریٹی کی ہدایت پر ریاست بھر کی تمام عدالتوں میں نیشنل لوک عدالت کا اہتمام کیا گیا جہاں عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کی یکسوئی کرتے ہوئے درخواست گذاروں کو معاوضہ ادا کیا گیا۔ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ اپریش کمار سنگھ جو تلنگانہ اسٹیٹ لیگل سرویسیس اتھاریٹی اور جسٹس پی سام کوشی کی نگرانی میں لوک عدالت کا اہتمام کیا گیا۔ تلنگانہ اسٹیٹ لیگل سرویسیس اتھاریٹی نے تمام اضلاع کے پرنسپل ڈسٹرکٹ ججس اور تمام جوڈیشل آفیسرس کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ لوک عدالت کے سلسلہ میں ریاست بھر میں 341 بنچ قائم کئے گئے جو ریاست اور اضلاع کی سطح پر رہے۔ ہائی کورٹ میں 2 بنچ قائم کئے گئے جبکہ ڈیٹ ریکوری ٹریبونل میں دو علیحدہ بنچ قائم کئے گئے تھے۔ جسٹس پی سام کوشی اور جسٹس شراون کمار نے محبوب نگر اور گدوال میں نیشنل لوک عدالت کا افتتاح کیا۔ جسٹس سام کوشی نے کہا کہ لوک عدالت کا نظریہ 1987 میں شروع کیا گیا تاکہ طویل عرصہ سے عدالتوں میں زیر التواء تنازعات کی یکسوئی کی جاسکے۔ ایسے معاملات جن میں فریقین مزید قانونی لڑائی کے لئے تیار نہ ہوں ان کی یکسوئی کی جارہی ہے۔ عام طور پر سال میں ایک مرتبہ نیشنل لوک عدالت کا اہتمام کیا جاتا رہا لیکن تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے ہر تین ماہ میں لوک عدالت منعقد کی جارہی ہے۔ جسٹس شراون کمار نے لوک عدالت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کے باہر یکسوئی میں یہ بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ ہائی کورٹ کے ججس نے اس موقع پر حادثاتی کلیم سے متعلق چیکس حوالے کئے۔ ممبر سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ لیگل سرویسیس اتھاریٹی سی ایچ پنچاکشری نے کہا کہ تمام اضلاع کی عدالتوں میں کامیابی سے انعقاد عمل میں آیا۔ ریاست بھر میں جملہ 1119079 مقدمات کی یکسوئی کی گئی جن میں 2531 سیول کیسیس، 1031317 کریمنل کیسیس اور 85231 پری لٹیگیشن کیسیس شامل ہیں۔ تمام مقدمات میں 397 کروڑ کا معاوضہ ادا کیا گیا۔ لیگل سرویسیس اتھاریٹی نے تلنگانہ میں لوک عدالتوں کے ذریعہ مقدمات کی یکسوئی کے رجحان میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ 1