ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے لیے 175 کروڑ روپئے طلب: پونم پربھاکر
حیدرآباد ۔ 9 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ تلنگانہ میں ایک انسٹی ٹیوٹ آف ڈرائیونگ ، ٹریننگ اینڈ ریسرچ قائم کیا جائے اور ضلع سطح کے ڈرائیونگ ٹریننگ سنٹرس قائم کئے جائیں تاکہ پروفیشنل اسکلس اور روڈ سیفٹی میں بہتری آئے ۔ انہوں نے اسپیشل اسسٹینس ٹو اسٹیٹس فار کیپٹل انوسٹمنٹس اسکیم کے تحت تلنگانہ میں ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے لیے 175 کروڑ روپئے بھی طلب کئے ۔ نئی دہلی میں مرکزی وزیر نیتن گڈکری کی صدارت میں منعقدہ 43 ویں ٹرانسپورٹ ڈیولپمنٹ کونسل میٹنگ سے مخاطب کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے تلنگانہ کی ٹرانسپورٹ ضرورتوں پر تفصیلی نمائندگی پیش کی اور موٹر وہیکل ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پر تبادلہ خیال کیا ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تلنگانہ میں روڈ سیفٹی ، ڈرائیور ٹریننگ اور ٹرانسپورٹ ماڈرنائزیشن کے لیے مرکزی حکومت کی مدد کی ضرورت ہے ۔ ویژن 2047 کے تحت محکمہ ٹرانسپورٹ کا مقصد پانچ لاکھ ہیوی وہیکل ڈرائیورس کو آئی ڈی ٹی آر سی اور ریسرچ سنٹرس کے ذریعہ ٹریننگ دینا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک ٹرانسپورٹ اکیڈیمی اور ایک سنٹر آف ایکسیلنس فار ڈرائیونگ اینڈ روڈ سیفٹی قائم کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 16 نومبر 2024 کو جی او نمبر 41 کے ذریعہ ای وی پالیسی کا اعلان کرنے کے بعد الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد میں 2020 میں 4376 سے 2025 میں 2,58,325 تک اضافہ ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی آر کیمروں اور اے آئی سسٹمس کے ذریعہ انفورسمنٹ کے ساتھ خواتین اور بچوں کے لیے بہتر سیفٹی کو یقینی بنانے بسوں اور ٹیکسیز میں ٹرئیکنگ ڈیوائسیس لگائے جائیں گے ۔ نتن گڈکری نے کہا کہ جو مسائل اٹھائے گئے ہیں ان کا مثبت انداز میں جائزہ لیا جائے گا ۔۔ A
