تلنگانہ میں نیلے انقلاب کی لہر

   

حکومت کے کلیدی اقدامات سے سمکیات کے شعبہ میں نمایاں ترقی

حیدرآباد ۔ 16 اکٹوبر (سیاست نیوز) علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد سبز انقلاب رونما ہونے کے بعد اب تلنگانہ میں سمکیات کو فروغ دینے کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی دلچسپی اور اقدامات سے ریاست میں ایک نیلے انقلاب کی لہر ہے۔ ریاستی حکومت نے مچھلی کی پیداوار کو بڑھانے اور مچھیروں کیلئے فلاحی اسکیمات شروع کئے ہیں اور اس سے نہ صرف ماہی گیروں کے طرز زندگی میں بہتری آئی ہے بلکہ اس سے درمیانی آدمیوں کے عمل دخل میں بھی کافی کمی واقع ہوئی ہے اور اس طرح فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹیز اور انفرادی ممبرس کی اوسط آمدنی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ سمکیات میں دلچسپی رکھنے والے ایم ویشویشور نے جس نے گذشتہ تین سال اس فیلڈ میں کافی ریسرچ کیا ہے، کہا کہ ریاست میں سمکیات کے شعبہ میں 2 تا 3 بلین امریکی ڈالر انڈسٹری کے ابھرنے کے امکانات ہیں۔ تلنگانہ کی مچھلی کی بہت مانگ ہے کیونکہ تازہ پانی کی مچھلی ملک میں بہت کم دستیاب ہوتی ہے اور تلنگانہ میں مچھلی کی پیداوار فریش واٹر سے ہوتی ہے کیونکہ یہ ایک سمندر سے دور خشکی سے گھری ہوئی ریاست ہے۔ ویشویشور نے کہا کہ فشریز کوآپریٹیو سوسائٹیز کی تعداد میں 15 فیصد کا اضافہ ہوا۔ 2016-17ء میں 4002 سے 2020-11 میں یہ تعداد 4604 ہوگئی جبکہ اس دوران ممبرشپ میں 8 فیصد اضافہ ہوا۔