تلنگانہ میں وائیٹ کورٹ انقلاب، ہر ضلع میں میڈیکل کالج کے قیام کا خواب مکمل

   

عثمانیہ ہاسپٹل کیلئے نئی عمارت ، شہر کے اطراف چار ٹمس ، وزیر صحت ہریش راؤ کا انٹرویو

حیدرآباد ۔15۔ ستمبر (سیاست نیوز) وزیر صحت ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں عنقریب سرکاری سطح پر میڈیکل کالجس کی تعداد 34 ہوجائے گی اور ریاست کے ہر ضلع میں میڈیکل کالج کے قیام کا خواب پورا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت سرکاری سطح کے 26 میڈیکل کالجس کارکرد ہیں اور آئندہ تعلیمی سال سے مزید 8 کالجس میں تعلیم کا آغاز ہوجائے گا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں صحت کے شعبہ میں بہتر انفراسٹرکچر سہولتوں کے معاملہ میں ملک کیلئے مثال قائم کی ہے اور میڈیکل کالجس کا جال بچھاتے ہوئے ریاست میں وائیٹ کورٹ انقلاب برپا کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ کریم نگر ، کاما ریڈی ، کھمم ، بھوپال پلی ، آصف آباد ، نرمل ، سرسلہ ، وقار آباد اور جنگاؤں میں چیف منسٹر کے سی آر نے نئے میڈیکل کالجس کا افتتاح انجام دیا ہے۔ میڈیکل ایجوکیشن پر حکومت کی توجہ سے متعلق سوال پر ہریش راؤ نے کہا کہ تشکیل تلنگانہ سے قبل متحدہ آندھراپردیش میں صرف 5 گورنمنٹ میڈیکل کالجس تھے، ان میں سے تین آزادی سے قبل قائم کئے گئے۔ گزشتہ 7 دہوں میں سرکاری سطح پر صرف دو میڈیکل کالجس کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل انفراسٹرکچر بہتر بنانے کیلئے 2016-17 ء میں حکومت نے محبوب نگر اور سدی پیٹ میں میڈیکل کالجس کے قیام کے ذریعہ نئی تحریک شروع کی۔ 2017-18 ء میں نلگنڈہ اور سوریا پیٹ میں جبکہ 2022-23 ء میں 8 نئے میڈیکل کالجس کا قیام عمل میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ 2023-24 ء میں مزید 8 گورنمنٹ میڈیکل کالجس کے قیام کا منصوبہ ہے جس کے تحت 33 اضلاع میں میڈیکل کالجس کی تعداد 34 ہوجائے گی۔ ہریش راؤ نے بتایا کہ ہر میڈیکل کالج کو حکومت سے 400 تا 500 کروڑ فنڈس حاصل ہورہے ہیں۔ نہ صرف میڈیکل ایجوکیشن بلکہ غریبوں اور بہتر علاج کی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ہر میڈیکل کالج کے ذریعہ 1000 تا 1500 افراد کیلئے راست یا بالواسطہ روزگار کے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دواخانوں میں علاج کی بہتر سہولتوں کیلئے ڈاکٹرس کی خانگی پریکٹس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ تلنگانہ کے پرائمری ہیلت کیر سنٹرس کے لئے 1000 سے زائد ڈاکٹرس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور کالجس میں 900 تدریسی اسٹاف کا تقرر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ہر سال تقریباً 10,000 ڈاکٹرس تیار ہورہے ہیں۔ سابق میں ہر سال 2850 ڈاکٹرس تیار ہورہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ طبی عملہ کی کمی دور کرنے کیلئے حکومت نے ہر ضلع میں بی ایس سی نرسنگ کالج کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بی ایس سی پیرا میڈیکل کورسس کا آغاز کیا جائے گا تاکہ نرسیس اور پیرا میڈیکل پروفیشنلس کی کمی دور کی جائے۔ ہریش راؤ نے میڈیکل کالجس کے قیام میں مرکزی حکومت کے رول سے متعلق سوال پر کہا کہ ملک میں مرکزی حکومت نے 157 میڈیکل کالجس کو منظوری دی لیکن تلنگانہ کیلئے ایک بھی کالج منظور نہیں کیا گیا۔ ریاستی حکومت نے مرکز کو دو کالجس کی تجاویز روانہ کی تھیں لیکن تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔ ہریش راؤ نے کہا کہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں 4 تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس کے قیام کے ذریعہ تقریباً 10,000 سوپر اسپیشالیٹی بستروں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ہر انسٹی ٹیوٹ میں ایک ہزار بستروں کے حساب سے جملہ 4000 بستروں کا اضافہ ہوگا جبکہ ورنگل میں ہیلت سٹی کے تحت 2000 بستروں کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل ہیلت سٹی کا کام اختتامی مراحل میں ہیں۔ حکومت نے بنیادی سطح پر عوام کو طبی خدمات فراہم کرنے بستی دواخانوں کا قیام عمل میں لایا جبکہ دیہی علاقوں میں پلے دواخانہ قائم کئے گئے۔ ریاست میں دیہی علاقوں میں 3000 اور شہری علاقوں میں 500 بستی دواخانے قائم کئے گئے ۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل سے متعلق حکومت کے منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر صاحت نے کہا کہ حکومت نئی عمارت کی تعمیر کا فیصلہ کرچکی ہے۔ چیف منسٹر نے 2015 ء میں پہلی مرتبہ عثمانیہ ہاسپٹل کا دورہ کرتے ہوئے نئی عمارت کی تعمیر کا اعلان کیا تھا ۔ ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق انجنیئرس اور ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں اپنی رپورٹ میں کہا کہ موجودہ عمارت ہاسپٹل کیلئے مناسب نہیں ہے۔ حکومت نے ہائی کورٹ میں حلفنامہ داخل کیا ہے اور جس دن ہائی کورٹ اجازت دے گا ، دوسرے ہی دن حکومت جی او جاری کرتے ہوئے ٹنڈرس طلب کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے اطراف TIMS کے قیام سے عثمانیہ اور گاندھی ہاسپٹلس میں مریضوں کی تعداد کم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عثمانیہ ہاسپٹل میں موجودہ بستروں کی تعداد 1812 ناکافی ہے۔ میڈیکل کالجس میں ریاگنگ کے واقعات کی روک تھام کے بارے میں ہریش راؤ نے کہا کہ گزشتہ سال نلگنڈہ میں ریاگنگ کا واقعہ پیش آیا اور اس معاملہ میں ملوث طلبہ کو ایک سال کے لئے معطل کیا گیا۔ گاندھی میڈیکل کالج میں حال ہی میں اسی طرح کی کارروائی کی گئی۔ ہریش راؤ نے کہا کہ سرکاری دواخانوں میں ڈیلیوری کے کیسس میں اضافہ ہوا ہے جو سرکاری دواخانوں کی بہتر کارکردگی کا ثبوت ہے۔