چیف منسٹر کو عوامی صحت سے کوئی دلچسپی نہیں، 19 اگست سے کانگریس دواخانوں کا دورہ کرے گی: بھٹی وکرمارکا
حیدرآباد۔14 ۔ اگست (سیاست نیوز) کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بھٹی وکرمارکا نے تلنگانہ میں ہیلت ایمرجنسی کے اعلان کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ریاست وبائی امراض کے مرکز میں تبدیل ہوچکی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ریاست بھر میں وبائی امراض عروج پر ہیں۔ ڈینگو ، ملیریا اور دیگر امراض کے نتیجہ میں ہزاروں افراد روزانہ دواخانوں کا رخ کر رہے ہیں ۔ تلنگانہ بیماریوں کی ریاست میں تبدیل ہوچکی ہے لیکن افسوس کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو عوام کی صحت کا کوئی خیال نہیں۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ وہ 19 اگست سے ریاست کے تمام دواخانوں کا دورہ کرتے ہوئے طبی خدمات کا جائزہ لیں گے اور کانگریس پارٹی کی جانب سے مفت میڈیکل کیمپس منعقدکئے جائیں گے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر راج محل سے باہر نکلنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اگر وہ پرگتی بھون سے باہر آئیں تو انہیں عوامی مسائل کا اندازہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نیلوفر ہاسپٹل کے حالیہ دورہ کے بعد انہوں نے حکومت سے ریاست میں طبی خدمات پر جائزہ اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن چیف منسٹر نے آج تک اس جانب توجہ نہیں دی ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی میں ٹی آر ایس حکومت ناکام ہوچکی ہے ۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ حکومت کے وزراء کو یہ توفیق نہیں کہ وہ سرکاری دواخانوں کا دورہ کرتے ہوئے عوامی مسائل کا جائزہ لیں۔ وزیر صحت ایٹالہ راجندر محض ایک ایم ایل اے کی طرح کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے وزیر صحت کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں تعلیم اور صحت کے شعبہ جات مافیا کے ہاتھوں میں آچکے ہیں اور حکومت ان کی سرپرستی کر رہی ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ بعض قائدین شخصی فائدہ کیلئے کانگریس سے انحراف کرتے ہوئے ٹی آر ایس اور بی جے پی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ وی ہنمنت راؤ کی جانب سے راہول گاندھی کے مشیر کے خلاف دیئے گئے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ٹکٹوں کا الاٹمنٹ الیکشن کمیٹی کی ذمہ داری ہے۔ مجھ جیسے افراد ٹکٹ کا فیصلہ نہیںکرسکتے ۔ پارٹی کے انچارج کنتیا نے ہنمنت راؤ کے بیان پر پہلے ہی وضاحت کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کپولا راجو کو بدنام کرنے کیلئے بعض قائدین بیان بازی کر رہے ہیں ۔ جن میں ایسے قائدین شامل ہیں جو پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ انہوں نے راہول گاندھی کے مشیر کے خلاف بیان بازی کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں وبائی امراض میں اضافہ پر مرکزی حکومت کو توجہ مبذول کرنی چاہئے ۔
