مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے نام پر دھوکہ، تمام طبقات حکومت سے ناراض
حیدرآباد۔/6 مارچ، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی نے تلنگانہ میں وسط مدتی اسمبلی انتخابات کی پیش قیاسی کی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ نومبر 2023 میں انتخابات کی صورت میں پارلیمنٹ چناؤ کیلئے 6 ماہ تک انتظار کرنا پڑے گا لہذا چیف منسٹر کے سی آر اسمبلی تحلیل کرتے ہوئے وسط مدتی انتخابات کا سامناکریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور کرناٹک اسمبلیوں کے انتخابات کے بیک وقت انعقاد کا امکان ہے۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ حیدرآباد کے بجائے اپنے حلقہ جات میں قیام کریں اور ابھی سے انتخابات کی تیاری کریں۔ ایک سوال کے جواب میں اتم کمار ریڈی نے کہا کہ وہ کس اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کریں گے اس کا فیصلہ سونیا گاندھی پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کے خطبہ کے بغیر بجٹ اجلاس کے آغاز کو کانگریس پارلیمنٹ میں موضوع بحث بنائیگی۔ انہوں نے کہاکہ کے سی آر حکومت نے اپنے وعدوں کو فراموش کردیا ہے۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا گیا لیکن انہیں دھوکہ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں پولیس مظالم کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ کسان ، دلت اور دیگر کمزور طبقات حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ سی ایل پی اجلاس میں ارکان مقننہ جیون ریڈی، سریدھر بابو، پی ویریا، سیتکا، سابق سی ایل پی لیڈر محمد علی شبیر، سمپت کمار، چنا ریڈی، انجن کمار یادو و دوسروں نے شرکت کی۔ ر