آندھراپردیش کے ٹنڈر سسٹم کو اختیار کیا جائے، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔24۔ ستمبر (سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے عمل کئے جارہے ٹنڈر سسٹم میں بے قاعدگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ آندھراپردیش کے چیف منسٹر جگن موہن ریڈی سے ملاقات کے دوران کے سی آر نے آندھراپردیش میں رائج ریورس ٹنڈر سسٹم کی ستائش کی ۔ آندھراپردیش میں تمام بڑی کمپنیاں 12.6 فیصد کی کمی کے ساتھ ٹنڈرس داخل کر رہے ہیں جس سے حکومت کو فائدہ ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش کی طرح تلنگانہ میں بھی اسی سسٹم پر عمل آوری کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے ریورس ٹنڈرنگ سسٹم رائج کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے آبپاشی پراجکٹس پر ایک لاکھ کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں اور مزید ایک لاکھ 25 ہزار کروڑ خرچ کرنے کا امکان ہے ، لہذا 12 فیصد کی کمی کے ساتھ ٹنڈرس الاٹ کئے جائیں تو ریاست کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صرف آبپاشی کے شعبہ میں ریاست کو 28,000 کروڑ کا فائدہ ہوسکتا ہے ۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ مشن بھگیرتا میں 50,000 کروڑ خرچ کئے جاچکے ہیں۔ اگر وہاں بھی ریورس ٹنڈر سسٹم پر عمل کیا جائے تو 6000 کروڑ کی بچت ہوگی ۔ دونوں اسکیمات کو ملاکر 34,000 کروڑ کا فائدہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اریگیشن پراجکٹس کے کنٹراکٹر کو مارجن کی کمی سے 74,000 کروڑ حاصل ہوں گے۔ انہوں نے تلنگانہ میں ٹنڈر سسٹم پر تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بدعنوانیوں کو منظر عام پر لانے کے لئے سی بی آئی تحقیقات ضروری ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹنڈرس میں بے قاعدگیوں کے ذریعہ حکومت میں شامل افراد کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔