تلنگانہ میں پارلیمنٹ و اسمبلی انتخابات یکساں منعقد کرنے پر مرکز کا غور

   

قبل از وقت الیکشن کے ریاستی حکومت کے امکانی فیصلہ کا جائزہ

حیدرآباد۔28ڈسمبر(سیاست نیوز) مرکزی حکومت ریاست تلنگانہ میں بہر صورت اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انتخابات یکساں کروانے کی حکمت عملی کا جائزہ لے رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے تلنگانہ میں عاجلانہ انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد اس بات پر غور کرنا شروع کردیا ہے کہ اگر تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے عاجلانہ انتخابات کے لئے اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں کس طرح سے اسمبلی انتخابات کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات تک مؤخر کیا جاسکتا ہے! چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنی پہلی معیاد کے دوران 9 ماہ قبل اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ریاست میں عاجلانہ انتخابات کی راہ ہموار کی تھی اور عام انتخابات میں کسی بھی لہر کے ساتھ بہاؤ سے محفوظ رہنے کی حکمت عملی میں کامیاب ہوئے تھے اور اس مرتبہ بھی کہا جا رہاہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ماہ مارچ کے دوران عبوری بجٹ کی پیشکشی کے ساتھ ہی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں اسی لئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے تلنگانہ کے بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین کو عوام کے درمیان رہتے ہوئے تلنگانہ راشٹر سمیتی کی ناکامیوں کو منظر عام پر لانے اور عاجلانہ انتخابات کی تیاریوں کو شروع کردینے کی ہدایات جاری کی ہیں لیکن کہا جا رہاہے کہ مرکزی حکومت ریاست تلنگانہ میں عاجلانہ انتخابات کے حق میں نہیں ہے اور عام انتخابات کے ساتھ تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات کے انعقاد کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے۔موجودہ تلنگانہ اسمبلی کی معیاد 2023ڈسمبر میں مکمل ہونے والی ہے اور مئی 2024 سے قبل ملک بھر میں عام انتخابات منعقد ہونے والے ہیں لیکن گذشتہ معیاد کے دوران چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے ستمبر 2018میں اسمبلی کی تحلیل کے ذریعہ 9ماہ قبل انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے اور اس مرتبہ بھی وہ مارچ 2023 کے آس پاس اسمبلی کی تحلیل کے ذریعہ ایک مرتبہ پھر عاجلانہ انتخابات کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں لیکن امیت شاہ نے تلنگانہ کے بی جے پی کیڈر کو متحرک کرتے ہوئے کہا کہ وہ عاجلانہ انتخابات کے لئے تیار رہیں لیکن ساتھ ہی مرکزی حکومت انتخابات کو ٹالنے کی حکمت عملی کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ عام انتخابات کے ساتھ تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات کو یقینی بنایا جاسکے۔ ریاست آندھرا پردیش ‘ اڈیشہ ‘اروناچل پردیش اور سکم میں اسمبلی انتخابات 2024 اپریل میں منعقد ہونے ہیں ۔ امیت شاہ نے تلنگانہ کے بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین کو ملاقات کے دوران جو مشورہ دیا اس میں کہا گیا ہے کہ ریاستی قائدین ٹی آر ایس سے سیاسی لڑائی جاری رکھیں اور مرکزی حکومت وہ سب کچھ کرے گی جو اس کے دائرہ اختیار میں ہے اسی لئے یہ کہا جا رہاہے کہ ریاست تلنگانہ میں اگر چیف منسٹر کی جانب سے دوبارہ قبل از وقت اسمبلی کی تحلیل کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں مرکزی حکومت اپنے اختیارات کا استعمال اور قانون میں موجود گنجائش کے ذریعہ اسمبلی انتخابات میں تاخیر کو یقینی بناسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر ریاست تلنگانہ میں حکومت اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ کرتی ہے تو ایسی صورت میں مرکزی حکومت تلنگانہ میں صدرراج کے نفاذ کے ذریعہ انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کے اقدامات کو یقینی بناسکتی ہے کیونکہ صورتحال 2018 کی طرح نہیں ہے اور ریاست تلنگانہ میں بھارتیہ جنتاپارٹی اپنے استحکام کے سلسلہ میں اقدامات کر رہی ہے۔ م