تلنگانہ میں پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی کی طرح بی آر ایس حکومت: نریندر مودی

   

( بی جے پی کی انتخابی مہم کا آغاز )
مجلس اور بی آر ایس کرپٹ، عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں، محبوب نگر میں مختلف پراجکٹس کے آغاز کے بعد وزیر اعظم کا جلسہ عام سے خطاب

حیدرآباد۔یکم؍ اکٹوبر، ( سیاست نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس حکومت پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی کی طرح چلائی جارہی ہے جس میں تمام اہم عہدے ارکان خاندان کو دیئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے آج محبوب نگر میں بی جے پی کے ’’ پرجا گرجنا ‘‘ جلسہ عام سے خطاب کیا۔ وزیر اعظم نے محبوب نگر میں تلنگانہ کے کئی پراجکٹس کا ورچول موڈ میں سنگ بنیاد رکھا۔ قومی شاہراہوں اور ریلویز کے پراجکٹس کا افتتاح اور سنگ بنیاد وزیر اعظم نے محبوب نگر سے آن لائن انجام دینے کے بعد جلسہ عام سے خطاب کیا اور تلنگانہ میں بی جے پی کی انتخابی مہم کا عملاً بگل بجایا۔ ریاستی گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن، مرکزی وزیر سیاحت و کلچر جی کشن ریڈی اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ بنڈی سنجے شہ نشین پر موجود تھے۔ وزیر اعظم نے 13,500 کروڑ مالیت کے مختلف پراجکٹس کو قوم کے نام معنون کیا۔ جلسہ عام میں وزیر اعظم نے بی آر ایس اور مجلس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بی آر ایس حکومت دراصل مجلس کے ہاتھوں میں ہے اور عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ کار کا اسٹیرنگ کس کے ہاتھ میں ہے۔ تلنگانہ میں خاندانی حکمرانی چل رہی ہے اور پرائیویٹ لمٹیڈ کمپنی کی طرح حکومت چلائی جارہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تلنگانہ میں دونوں خاندان کرپشن اور کمیشن کیلئے شہرت رکھتے ہیں اور یہ دونوں خاندان حکومت چلا رہے ہیں۔ ان خاندانوں کو عوامی مسائل کی کوئی فکر نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی میں ڈائرکٹر، منیجر، سکریٹری تمام عہدوں پر افراد خاندان کو رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفادات کی تکمیل کیلئے بعض معاونین کا انتخاب کیا گیا۔ عوام میں بی جے پی کے حق میں تائید کو دیکھتے ہوئے کانگریس اور بی آر ایس کی نیند حرام ہوچکی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے تلنگانہ میں طویل عرصہ سے مطالبہ کی تکمیل کرتے ہوئے قومی ہلدی بورڈ اور ٹرائیبل یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہلدی بورڈ کے قیام سے تلنگانہ کے ہلدی کسانوں کو مدد ملے گی۔ 2019 لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی امیدوار ڈی اروند نے تلنگانہ عوام سے ہلدی بورڈ کی تشکیل کا وعدہ کیا تھا جس کا آج اعلان کیا گیا۔ وزیر اعظم نے ملگ ضلع میں ٹرائیبل یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت 900 کروڑ روپئے خرچ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پراجکٹس کے نتیجہ میں ہنمکنڈہ ، ورنگل، محبوب آباد اور کھمم میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ نریندر مودی نے کہا کہ تلنگانہ کے اسمبلی چناؤ کے بعد ایسی حکومت برسراقتدار آئے گی جو اپنے وعدوں پر عمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام کو ایسی حکومت چاہیئے جو اپنی باتوں پر عمل کردکھائے۔ وزیر اعظم نے پراجکٹس کے افتتاح اور سنگ بنیاد کے بعد کھلی جیپ میں سوار ہوکر جلسہ گاہ پہنچے۔ دونوں جانب کھڑے افراد نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ خواتین نے روایتی رقص کے ذریعہ وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن کے بعد تلنگانہ میں بی جے پی حکومت تشکیل پائے گی جو اپنی باتوں پر عمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام بی جے پی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ لوک سبھا اسمبلی اور مجالس مقامی کے انتخابات میں عوام بی جے پی کی تائید کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سماجی تبدیلی چاہتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ محبوب نگر کئی اہم مجاہدین آزادی کی سرزمین ہے۔ رانی ردرماں دیوی اسی سرزمین سے تعلق رکھتی ہیں۔ خواتین تحفظات بل کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ قانون ساز اداروں میں 33 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں گے جس کے نتیجہ میں خواتین کی تعدا میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے گذشتہ 9 برسوں میں تلنگانہ میں 2500 کلو میٹر ہائی وے تعمیر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھان کی خریدی کیلئے 2014 میں یو پی اے حکومت نے 3400 کروڑ مختص کئے تھے جبکہ بی جے پی حکومت نے 27 ہزار کروڑ جاری کئے ہیں۔ مرکزی وزیر کشن ریڈی نے چیف منسٹر کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ریاست میں ترقیاتی کاموں کے افتتاح کیلئے وزیر اعظم کی آمد پر کے سی آر کی غیر حاضری افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر تلنگانہ کے ساتھ مرکز کے ناانصافی کے رویہ کا جھوٹا پروپگنڈہ کررہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی تلنگانہ کے ساتھ ہیں اور کئی پراجکٹس کو منظوری دی گئی۔ حیدرآباد کے اطراف مرکز کی جانب سے تعمیر کردہ ریجنل رنگ روڈ نے علاقہ کی صورتحال تبدیل کردی ہے۔