کرناٹک سرحد کے قریب 200 پٹرول پمپس کی تجارت متاثر ہونے کے اندیشے
حیدرآباد۔ 7 نومبر ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں پٹرول اور ڈیزل پر ویاٹ میں کمی نہ کرنے کا فیصلہ کرناٹک اور تلنگانہ کی سرحد پر 200 پٹرول پمپس کے کاروبار کو متاثر کرسکتا ہے ۔ مرکز کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل پر اکسائز میں کمی کے فیصلہ کے بعد ملک بھر میں موجود بی جے پی اقتدار والی ریاستو ںمیں ویاٹ میں تخفیف کے فیصلہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتو ںمیں نمایاں کمی آئی ہے اور بین ریاستی ٹرانسپورٹرس کی جانب سے ان ریاستوں میں فیول کی خریدی کی جانے لگی ہے جن ریاستو ںمیں ویاٹ کم کیا گیا ہے ۔ مرکزی و ریاستی حکومت کی جانب سے اکسائز ڈیوٹی اور ویاٹ میں کمی کے بعد کرناٹک میں پٹرول کی قیمت 100 روپئے 58 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 80.01 درج کی جا رہی ہے جبکہ تلنگانہ میں پٹرول کی قیمت 108روپئے 20 پیسے اور ڈیزل قیمت94روپئے 62 پیسے ہے کیونکہ تلنگانہ حکومت نے ویاٹ میں تخفیف نہیں کی ہے۔ تلنگانہ میں فی لیٹر پٹرول پر جو ویاٹ وصول کیا جاتا ہے وہ 28 روپئے 17 پیسے ہے جبکہ ڈیزل پر 20روپئے 12 پیسے ویاٹ وصول کیا جاتا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے مرکز کی اپیل کے باوجود ویاٹ میں کمی نہ کئے جانے کے سبب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے لیکن پٹرول پمپ مالکین کا کہناہے کہ حکومت پر تنقید اپنی جگہ ہے لیکن اگر یہاں ویاٹ میں کمی نہ کی گئی تو سرحدی اضلاع میں شاہراہوں پر موجود زائد از200 پٹرول پمپ بند ہوسکتے ہیں اور ان پٹرول پمپس کی آمدنی بری طرح سے متاثر ہوگی۔ سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر کونڈہ ویشویشور ریڈی نے اپنے ٹوئیٹر کے ذریعہ پٹرول اور ڈیزل پر ویاٹ میں کمی کے فیصلہ میں تاخیر پر طنز کیا اور کہا کہ ملک میںمستحکم معیشت والی ریاست میں حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل پر ویاٹ میں کمی نہ کیا جانا باعث حیرت ہے۔انہو ںنے آربی آئی رپورٹ کے حوالہ سے کہا کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے والی ریاست تلنگانہ ہے۔م