پولیس امن کی برقراری کے ساتھ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی بھی ذمہ دار
حیدرآباد۔5۔ ستمبر۔(سیاست نیوز) پولیس عہدیدار جو امن و ضبط کی برقراری کے لئے ذمہ دار ہیں ان پر شہریوں کی آزادی اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ سپریم کورٹ نے ریاست تلنگانہ میں پی ڈی ایکٹ کے بے دریغ استعمال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک جب اپنی آزادی کے 75سال کا جشن منا رہا ہے اور ملک میں ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ جاری ہے ایسے میں ریاست تلنگانہ میں پولیس کی جانب سے ضرورت سے زیادہ پرجوش انداز میں پی ڈی ایکٹ کا استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو جیلوں میں بند کیاجا رہا ہے۔ بعض پولیس عہدیدار شہریوں کے حقوق اور ان کی آزادی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پر پی ڈی ایکٹ نافذ کررہے ہیں۔ شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے سلمان نامی نوجوان کی اہلیہ کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس دیپانکر دتا پر مشتمل بنچ نے تلنگانہ پولیس کے طریقہ کار پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ قانون سازوں نے ناگزیر حالات میں استعمال کرنے کے لئے اس قانون کو بنایا ہے جو کہ تلنگانہ پولیس کی جانب سے من مانی طور پر استعمال کیا جا رہاہے ۔ سلمان کی اہلیہ نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں کوئی راحت حاصل نہ ہونے کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی تھیں ۔ اس مقدمہ کی سماعت کے دوران دونوں ججس نے درخواست گذار کے شوہر کو رہاء کرنے احکام دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ پولیس کے بعض عہدیدار آئین میں فراہم کئے گئے حقوق سے غافل نظرآرہے ہیں اور رجحان کو جلد ختم کیا جانا چاہئے ۔ سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تلنگانہ پولیس عہدیدار امن و ضبط کی برقراری اور عوامی ضابطہ کی برقراری کے فرق کو سمجھنے سے قاصر نظر آرہی ہے۔مقدمہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دستور کی دفعات 14,19 اور 21 کے حوالہ دیتے ہوئے ان میں شہریوں کو حاصل حق آزادی اظہار خیال ‘ قانون کی نظر میں سب کے ایک ہونے کے علاوہ ہندستانی شہریوں کو حاصل بنیادی حصول اور شخصی آزادی کے حوالہ دیئے ۔ عدالت عظمیٰ نے سماعت کے دوران پی ڈی ایکٹ نافذ کرنے والوں کی جانب سے پیش کئے گئے استدلال کا عدالتوں کو جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح اس قانون کا استعمال شہریوں کی آزادی کے مغائر ہے۔