تلنگانہ میں چیف منسٹر کی نہیں راجہ کی حکمرانی ‘ ٹی آر ایس سے اتحاد نہیں ہوگا

,

   

آئندہ حکومت کانگریس کی ہوگی ۔ کسانوں کے دو لاکھ تک کے قرض معاف کئے جائیں گے ۔ ورنگل میںکسان ریلی سے راہول گاندھی کا خطاب

حیدرآباد /6 مئی ( سیاست نیوز ) ہم نے نئی ریاست تلنگانہ ایک خاندان کیلئے نہیں تلنگانہ کے عوام کی خاطر بنائی تھی ۔ ہمیں معلوم تھا کہ نئی ریاست کی تشکیل سے کانگریس کو سیاسی نقصان ہوسکتا ہے ۔ پھر بھی سونیا جی نے تلنگانہ کے عوام کے جذبات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تلنگانہ کی تشکیل عمل میں لائی ۔ بدقسمتی ہے کہ اس ریاست سے عوام کو تو فائدہ نہیں ہوا لیکن ایک خاندان مزے لوٹ رہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار آج شام ورنگل میں ریتو سنگھرشنا سبھا کے بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سونیا جی نے یہ سوچا تھا کہ تلنگانہ کے عوام کی آرزوںکی تکمیل ہونی چاہئے ۔ افسوس کہ تلنگانہ میں چیف منسٹر نہیں راجہ کام کر رہا ہے ۔ اس لئے کہ چیف منسٹر عوام کی رائے لیکر فیصلہ کرتا ہے ۔ راجہ کسی کی رائے نہیں لیتا ۔ من مانی فیصلہ صادر کردیتا ہے ۔ آج تلنگانہ میں یہی ہو رہا ہے ۔ ہم نے چھتیس گڑھ میں انتخابی وعدوں کو پورا کرتے ہوئے کسانوں کی بھلائی کیلئے ٹھوس قدم اٹھایا تھا ۔ آج تلنگانہ میں کسانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے ۔ کوئی زبانی جمع خرچ کی بات نہیں کر رہا ہوں بلکہ کسانوں سے وعدہ کر رہا ہوں کہ دو مرتبہ آپ نے ایسی جماعت کو موقع دیا جس نے عوام کو دھوکہ دیا ۔ آج وقت آچکا ہے کہ عوام کانگریس کی طرف اقتدار کی واپسی کے منتظر ہیں ۔ ہم اقتدار سنبھالتے ہی کسانوں کو دو لاکھ روپئے قرض معاف کریں گے ۔ کسانوں کو گھبرانے یا پریشاین ہونے کی ضرورت نہیں ۔ کانگریس اقتدار میں آتے ہی تمام مسائل یکسوئی کرتے ہوئے یہاں کے عوام نے نئی ریاست کیلئے جو خواب دیکھا تھا اس کو پورا کریں گے ۔ ایک اور بات ، آپ ذہن نشین کرلیں کہ کانگریس کا ٹی آر ایس میں سے سمجھوتہ ہو ہی نہیں سکتا ۔ اس لئے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور ٹی آر ایس ایک سکہ کے دو رخ ہیں ۔ پارلیمنٹ میں جب سیاہ قانون لایا گیا تو ٹی آر ایس نے مدد کی ہے ۔ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اگر کانگریس کا کوئی قائد پارٹی چھوڑ کر جانا چاہتا ہے تو بی جے پی یا ٹی آر ایس کہیں بھی چلاجائے ۔ اس کو اس جماعت میں رہنے کا کوئی موقع نہیں ، ہمارا سمجھوتہ کسی پارٹی سے نہیں ہوسکتا ، کسان کمزور ہوگیا تو ریاست کمزور ہوجائیگی ۔ اس لئے کہ کسان ریاست کی بنیاد ہے اور کانگریس ہر وقت کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ ہم اپنے اصولوں کی لڑائی لڑ رہے ہیں ۔ راجہ سے سمجھوتہ کا تصور بھی نہ کریں جب راجہ نے تلنگانہ کے خواب کو چکنا چور کیا ہے اس کو عوام سبق سکھائیں گے ۔ تلنگانہ کے عوام کو جو نقصان پہونچایا ہے کانگریس اسے معاف نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ایک بات واضح کرتا ہوں کہ آئندہ انتخابات میں پارٹی اس شخص کو ٹکٹ دے گی جو عوام اور کسانوں کے درمیان رہتے ہوئے مسائل کی یکسوئی اور جدوجہد کی ہو مقبولیت کی بنیاد پر ہی انتخابی میدان میں اوقع دیا جائے گا ۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ تلنگانہ میں اپنی سیاسی زمین تلاش کرنے ٹی آر ایس کو ریموٹ کنٹرول کی طرح استعمال کرنا چاہتی ہے لیکن عوام کی طاقت ہی وقت پر بتادے گی کہ ریاست میں کامیابی کیلئے سیاسی چال نہیں پالیسیاں اہمیت کی حامل ہوتی ہیں ۔ آج اس جلسہ میں خودکشی کرلینے والے کسانوں کو بیواؤں سے مل کر بڑا دکھ ہوا کہ بے سہارا کمسن بچوں کو گود میں لیتے اپنے آنجہانی شوہروں کی تصاویر تھامے اپنی مصیبت بیان کر رہی تھیں۔ آخر ان اموات کا ذمہ دار کون ہے ۔ ان بے سہارا بیواؤں کیلئے حکومت خاموش کیوں ہے کیا انہیں غریب عوام نے منتخب نہیں کیا ۔ حکومت کیوںسرمایہ داروں کی کٹھ پتلی بن گئی ہے ۔ ضروری ہے کہ کانگریس کارکن اور قائدین کمربستہ ہوجائیں اور آئندہ کانگریس کو اقتدار پر پہونچنے کیلئے عوام کو موجودہ حکومت کی بدعنوانیوں سے واقف کروائیں پھر ایک بار میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ آئندہ دنوں میں کانگریس کو مستحکم کریں ۔ اس جلسہ کو ریونت ریڈی ، اتم کمار ریڈی کے علاوہ دیگر نے خطاب کیا جلسہ میں لاکھوں عوام کی شرکت اشارہ ہے کہ کانگریس تلنگانہ میں بڑی طاقت بن کر ابھر رہی ہے ۔