حیدرآباد، 28/ اگست (یواین آئی) تلنگانہ میں ڈینگو کے معاملات میں حالیہ عرصہ کے دوران اضافہ درج کیاگیا ہے ۔کورونا کے بعد اب اسپتالوں میں اس مرض کے متاثرین کی تعداد بڑھ گئی ہے ۔ریاست کا دارالحکومت متاثرین کی زائد تعداد کا مرکز بن گیا ہے ۔موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ نامناسب ماحول اور پانی کے جمع ہونے کی وجہ سے مچھروں کی افزائش ہورہی ہے جس کے نتیجہ میں حالیہ دنوں کے دوران ریاست میں ڈینگو کے معاملات بڑھ گئے ہیں۔گذشتہ سال ڈینگو کے 2173معاملات درج کئے گئے تھے تاہم جاریہ موسم کے دوران اب تک 1928ڈینگو کے معاملات درج کئے گئے ہیں۔حیدرآباد، میڑچل،رنگاریڈی اورکھمم میں متاثرین کی تعداد زیادہ ہے ۔حیدرآبادمیں 650،کھمم میں 240،رنگاریڈی میں 164،میڑچل میں 138معاملات درج کئے گئے ہیں،عادل آباد، کوتہ گوڑم، نظام آباد نرمل اضلاع میں بھی کورونا کے معاملات درج کئے جارہے ہیں۔گھروں میں جمع پانی، خراب ایر کولرس،پانی کے ڈرمس، ٹینکس،سمپس،پرانے ٹائرس اور گملوں کے پانی میں ڈینگو کے مچھر پیدا ہوتے ہیں جن کی صفائی پر زور دیاگیاہے ۔عوامی مقامات پر بھی بارش کا پانی زائد جمع ہونے کے نتیجہ میں بھی ڈینگو پھیلانے والے مچھروں کی افزائش ہوتی ہے ۔اسکولس، سیلارس، تعمیراتی مقامات،فنکشن ہالس، اوپن پلاٹس میں مچھروں کی افزائش ہوتی ہے ۔حیدرآبادکے جوبلی ہلز، بنجاراہلز، گچی باولی،ہائی ٹیک سٹی جیسے علاقوں میں مچھروں سے ڈینگو کے پھیلنے کے معاملات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ڈینگو کے ساتھ ساتھ ساتھ دیگر موسمی امراض کے معاملات میں بھی حالیہ دنوں کے دوران اضافہ درج کیاگیا ہے ۔ ڈاکٹرس نے موسمی امراض کے پیش نظر شہریوں کو احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گھر اور آس پاس کے ماحول کو پاک صاف رکھا جائے ۔ گندہ پانی جمع نہ ہونے دیں تاکہ مچھروں کی افزائش نہ ہو۔ گھروں میں پودوں کے گملے ، کولرس اور واٹر ٹینک وقفہ وقفہ سے صاف کرتے رہیں کیونکہ ڈینگو بخار کی وجہ بننے والے مچھروں کی پانی میں ہی افزائش ہوتی ہے ۔ خاص طور پر یہ مچھر دن کے وقت ہی کاٹتے ہیں۔ یہ مچھر مکانات کے اندھیرے کونوں، وغیرہ میں چھپے رہتے ہیں لہذا ان مچھروں سے بھی گھر کو پاک صاف بنانے کے لئے بھی وقفہ وقفہ سے صفائی کی جانی چاہئے ۔ ڈاکٹرس کے مطابق موسمی بخار عام طور پر تین تا چار دن میں کم ہوجاتا ہے لیکن اگر کسی کو تین تا چار دن سے زائد بخار کی شکایت ہوتو مریض کو چاہئے کہ وہ فوری طبی معائنے کروائے ۔ یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ کھانے اور پینے کی اشیا میں صاف صفائی کا خیال رکھیں۔