بیرون ملک کام کرنے والے کئی نوجوان نااہل قرار دیئے جائیں گے ، نیشنل بورڈ آف ایکریڈیٹیشن سے منظورہ کالج کی ڈگری ہی کارکرد
حیدرآباد۔/24 جولائی، ( سیاست نیوز) نیشنل بورڈ آف ایکریڈیٹیشن ( این بی اے ) کی جانب سے ایکریڈیٹیشن نہ رکھنے والے کالج سے حاصل کردہ ڈگری ناکارہ ثابت ہوگی۔ بیرونی ممالک میں جو ہندوستانی انجینئرس کام کررہے ہیں ان کی ڈگریوں کو کارکرد متصور نہیں کیا جائے گا۔ این بی اے سے مسلمہ قرار نہیں دیئے گئے کالجس کی ڈگریوں کو بیرونی ممالک میں اہمیت نہیں دی جارہی ہے اور ایسے ہندوستانی انجینئرس اپنی ملازمتوں سے محروم کردیئے جائیں گے۔ شہر میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن ( اے آئی سی ٹی ای ) کے چیرمین انیل ڈی ساہس ربودے نے کہا کہ صرف 10تا 15 فیصد ٹیکنیکل کالجس کو ہی این بی اے کی جانب سے ایکریڈیٹیڈ کیا گیا ہے۔ ہر سال تلنگانہ میں کئی انجینئرنگ کالجس میں تقریباً ایک لاکھ طلبہ داخلہ لیتے ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد بیرونی ممالک میں روزگار تلاش کرتی ہے۔ ریاستی حکومت کے بشمول متعلقہ حکام کیلئے یہ ایک اہم اور نازک مسئلہ ہے کہ وہ طلبہ کے اندر بیداری پیدا کریں اور این بی اے ایکریڈیٹیشن کی اہمیت کے بارے میں سمجھائیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ صرف ایسے کالجس میں داخلہ لیں جنہیں این بی اے سے ایکریڈیٹیشن حاصل ہے۔ ساری دنیا میں روزگار کے حصول میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثر کو دیکھتے ہوئے انجینئرنگ کالجس کے لئے لازمی ہے کہ وہ این بی اے ایکریڈیٹیشن کیلئے درخواست دیں ورنہ ان کالجس سے فارغ ہونے والے طلبہ کو بیرونی ممالک میں ملازمت حاصل کرنے کے دوران مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کویت کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں انجینئرس کے ورک پرمٹ کی تجدید نہیں کرے گی۔ جن انجینئرس نے ہندوستان میں این بی اے سے اکریڈیٹیشن حاصل نہ کرنے والے کالجس سے گریجویشن کیا ہے انہیں نااہل قرار دیا جائے گا۔ یہ خبر ان انجینئرس کیلئے آنکھ کھولنے کیلئے کافی ہے جنہوں نے این بی اے سے ایکریڈیٹیشن نہ رکھنے والے کالجس سے اپنی انجینئرنگ گریجویشن کی ہے۔
کویت کی حکومت کی طرح اگر دیگر ممالک کی حکومتیں بھی ایسا فیصلہ کریں تو ہمارے ملک کے انجینئرس کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی افسوسناک صورتحال پائی جاتی ہے ۔ تلنگانہ میں صرف 40 تا45 کالجس کو این بی اے ایکریڈیٹیشن حاصل ہے ۔ کئی کالجس ہنوز اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ این بی اے ایکریڈیٹیشن کی اہمیت کیا ہے۔ ان میں سے کئی کالجس نے اپنی عمارتوں میں مطلوب انفراسٹرکچر س اور سہولتوں کی کمی کے باعث ایکریڈیٹیشن حاصل نہیں کی ہے۔ این بی اے ایکریڈیٹیشن کے حصول کیلئے ایک کالج کو ضروری ہے کہ وہ مناسب فیکلٹی کی خدمات حاصل کرے۔ صدر تلنگانہ پرائیویٹ انجینئرنگ کالجس مینجمنٹ اسوسی ایشن کے صدر گوتم راؤ نے کہا کہ ریاست میں گزشتہ چند سالوں سے کئی کالجس نے ایکریڈیٹیشن حاصل کیا ہے۔ بیرونی ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی انجینئرس کو فوری طور پر کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔