تلنگانہ میں کار بریک لگانا بی جے پی کے بس کی بات نہیں

   

کے سی آر طاقتور چیف منسٹر ، اسمبلی میں کے ٹی آر سے ملاقات کے بعد اسد الدین اویسی کا بیان
حیدرآباد 12 مارچ ( سیاست نیوز) صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اسمبلی پہونچکر وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر سے ملاقات کی ۔ تلنگانہ کی سیاسی صورتحال کے علاوہ پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج و دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل صدر نشین کا پیر کو انتخاب ہے ۔ اعلامیہ کی اجرائی کے بعد اسداویسی کی کے ٹی آر سے ملاقات سیاسی حلقوں میں موضوع بحث ہے ۔ مجلس ٹی آر ایس کی حلیف ہے ۔ فی الحال مجلس کے رکن سید امین الحسن جعفری عبوری صدر نشین کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں ۔ یہ قیاس آرائیاں ہیں کہ مجلس نے ڈپٹی چیرمین کیلئے دعویداری پیش کی ہے ۔ ملاقات کے بعد میڈیا نے جب اسد اویسی سے ملاقات پر استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کی کے ٹی آر سے ملاقات کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں ہے ۔ عہدوں کے علاوہ دوسرے سیاسی امور پر کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا گیا وہ حیدرآباد حدود میں شامل اسمبلی حلقوں کے مسائل پر کے ٹی آر سے تبادلہ خیال کرچکے ہیں ۔ اترپردیش کے نتائج پر سوال پر اسد اویسی نے کہا کہ نتائج توقع کے مطابق ہیں ۔ انہیں کوئی ناراضگی بھی نہیں ہے ۔ صدر مجلس نے کہا کہ مغربی بنگال کے انتخابات الگ ہے ۔ اترپردیش نتائج پر حیرت کی ضرورت نہیں ہے ۔ اترپردیش میں 20-80 فارمولے پر الیکشن لڑا گیا ۔ اکھلیش یادو ایک ماہ قبل انتخابی میدان میں کود پڑے ۔ مستقبل میں علاقائی جماعتوں کا اہم رول ہوگا آئندہ گجرات اور راجستھان میں مجلس مقابلہ کرے گی ۔ بی جے پی کا اگلا نشانہ تلنگانہ ہونے کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہاں چیف منسٹر کے سی آر طاقتور ہے ۔ تلنگانہ میں کار کی اسپیڈ کو بریک لگانا بی جے پی کے بس کی بات نہیں ہے ۔ اسد اویسی نے کہا کہ پنجاب کانگریس نے عام آدمی پارٹی کو تحفے میں دیا ہے ۔ کانگریس کے جی 23 گروپ کے قائدین کیا کرتے ہیں دیکھیں گے ۔ انہیں ریاست میں وسط مدتی انتخابات کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ جب بھی انتخابات ہوں گے مجلس سامنا کرنے تیار رہے گی ۔ن
تھرڈ فرنٹ کے لیے چیف منسٹر کے سی آر کی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کے سی آر کو ہرگز ہلکے میں نہیں لیا جاسکتا وہ بڑے ضدی ہے ۔ انہوں نے تنہا جدوجہد کرتے ہوئے علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کیا ہے کچھ تو بات ہوگی ۔ تبھی تو کے سی آر مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بات کررہے ہیں ۔ غلام نبی آزاد کی راجیہ سبھا میعاد مکمل ہونے کے باوجود ان کی سرکاری قیام گاہ کو برقرار رکھنے پر شکوک کا اظہار کیا ۔۔ ن