ہندو مندروں پر حملے کئے جارہے ہیں، ریاست میں کمیشن کے نام پر آر آر ٹیکس وصول کیا جارہا ہے
حیدرآباد ۔ 4 فروری (سیاست نیوز) بی جے پی کے قومی صدر نتن نبن نے الزام عائد کیا ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت صرف مسلم ووٹ بینک کو خوش کرنے کیلئے سیاست کررہی ہے اور کمزور و پسماندہ طبقات کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ وہ آج محبوب نگر کے ایم وی ایس ڈگری کالج گراؤنڈ میں منعقدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے وجئے سنکلپ سمیلن سے خطاب کررہے تھے۔ اپنی تقریر کے آغاز میں نتن نبن نے تلنگانہ تحریک کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور نظام کی ظالمانہ حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے ہیرو کو سلام کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تحریک میں قربانیاں دینے والوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ بی جے پی کے قومی صدر نے الزام لگایا کہ ریاست کی کانگریس حکومت پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف کرنے میں ناکام ہوگئی۔ جبکہ وقف بورڈ کو مضبوط بنانے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے فلاحی فنڈز میں کٹوتی کی جارہی ہے۔ نتن نبن نے کہا کہ تلنگانہ میں ہندو منادر پر کھلے عام حملے کئے جارہے ہیں۔ کانگریس حکومت تماشہ دیکھ رہی ہے۔ ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کیا جارہا ہے۔ مندروں کے اراضیات پر قبضے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تلنگانہ میں سناتن دھرم پر کسی بھی قسم کے حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بی جے پی کے قومی صدر نے کانگریس حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریتو بھروسہ، قرض معافی اور زرعی مزدوروں سے کئے گئے وعدے آج تک عملی شکل اختیار نہیں کرسکے اور ساتھ ہی ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ نتن نبن نے الزام لگایا کہ ریاست میں کمیشن کے نام پر آر آر ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ چھوٹے کنٹراکٹرس کو بھی ترقیاتی کاموں اور بلس کی منظوری کیلئے یہ ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ ریاست کے بلدی انتخابات میں عوام کرپشن اور کمیشن والی سیاست کو جڑ سے ختم کریں اور تبدیلی کیلئے متحد ہوجائیں۔ بی جے پی امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔2